
اطلاعات کے مطابق خاران شہر اور گرد و نواح کی کلیوں میں پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کی جانب سے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے، جس کے دوران مختلف علاقوں سے نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر جبراً لاپتہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اب تک تین نوجوانوں مخفر عابد سیاپاد، منیب سیاپاد اور آحمد سیاپاد کی جبری گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں خاران شہر میں ہونے والے شدید حملوں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد ریاستی نظام بری طرح متاثر ہوا، جبکہ ان واقعات میں سیکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، جس کے نتیجے میں فورسز شدید دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتی ہیں۔
اسی تناظر میں گزشتہ روز سے خاران شہر اور اطرافی علاقوں میں فورسز کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور سرچ آپریشنز کے دوران نوجوانوں کو جبراً لاپتہ کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
اب تک کی معلومات کے مطابق خاران شہر کے علاوہ کلی سراوان سمیت دیگر قریبی علاقوں میں بھی آپریشن کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوانوں کے علاوہ مزید افراد کی جبری گمشدگی کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
