
تحریر: شئے دربیش بلوچ
دو دن پہلے بلوچ سرمچاروں نے خاران شہر کا کنٹرول حاصل کیا، پورے شہر میں گشت کرتے رہے، پاکستانی فورسز کے مراکز اور بینکوں کو نقصان پہنچایا۔ اس پورے واقعے کو حکومت کے جانب بینک ڈکیتی قرار دینا کیا حقائق کو چھپا سکتے ہیں؟
پاکستان کے پاس طاقت ور میڈیا اور فوج کے تابع سیاسی پارٹیاں ہیں جو فوجی بیانیے کی تشہیر کرتے ہیں، پاکستانی ریاست اور فوج اپنی بیانیے کی تشہیر اور مسلط کرنے کے لیے افرادی قوت اور بے تحاشا وسائل لگا رہا ہے لیکن بر سرزمین حالات اس سے قطعی مختلف ہیں، جب سرمچار شہروں میں داخل ہوتے ہیں تو عوام کے جانت سے جشن کا سماں دیکھا جاتا ہے، پاکستانی بیانیے کے برخلاف بلوچ قوم سرمچاروں کی اپنی محافظ اور قومی آزادی سپاہی سمجھتے ہیں، اس کا مظاہرہ بھی روز ہوتا ہے ایک پاکستانی فورسز شہروں یا دیہاتوں پر ہلہ بولتے ہیں تو اپنے پیچھے خون، جبری گمشدگی اور بے بسی کے داستان چھوڑ دیتے ہیں لیکن دوسری جانب سرمچار شہروں میں آتے ہیں تو عوام کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔
طاقت ور میڈیا کے باوجود ریاستی بیانیہ ریاستی ٹی وی، ریاستی پارٹیوں کے زبان اور اس کے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے اسکرینوں تک محدود رہتے ہیں لیکن قومی تحریک کا بیانیہ ہر بلوچ کے دل کی دھڑکنوں میں شامل ہوتا جا رہا ہے، یہی بنیاد فرق حکومتی بیانیہ اور زمین سے جڑی بلوچ عوامی ردعمل کے درمیان سچ اور جھوت کو نمایاں کرتا ہے۔
خاران واقعہ اسی سلسلے کی نمایاں کڑی ہے، یہ واقعہ ایک بار پھر بلوچستان میں طاقت کے استعمال، ریاستی بیانیے کے مقابلے میں عوامی احساسات کو نمایاں کرتا ہے، اس میدان میں بتدریج طاقت ریاست بیانیے کے جنگ میں شکست سے دوچار ہو رہا ہے۔
پاکستان کے سرکاری عہدیداروں اور سرکاری میڈیا نے شہر پر سرمچاروں کے مختصر سہی لیکن کنٹرول کو “ناکام بینک ڈکیتی” قرار دیتا جبکہ حقائق یکسر اس کے برعکس ہیں، دنیا میں کہیں بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ عوام کی بڑی تعداد "بینک ڈکیتوں” کا والہانہ استقبال کرے، لیکن سرمچاروں کا والہانہ استقبال ہوتا ہے، جس کے بس ہو جو وہ سرمچاروں کی خدمت کرتا ہے اور ریاستی خوف کے باجود سرمچاروں سے اپنی محبت و الفت کو نہیں چھپاتا بلکہ کیمروں کی موجود اس کا واضح اظہار کرتا ہے، یہی وہ مقام ہے کہ ریاستی بیانیہ حقائق سے کوسوں دور شرمساری کا عملی نمونہ بن جاتا ہے۔
سرمچاروں کی بازار اور گلیوں میں بے خوف گشت اور عوام کا ان سے مصافحہ اور خیرسگالی ایک ایسے رشتے کی دلالت کرتے ہیں جو ریاستی مظالم اور یقینی سزاؤں کے خوف سے بالاتر ہے، یہ زمین سے عشق اور قومی آزادی پر یقین کا بین ثبوت ہے۔وائرل ویڈیوز سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ سرمچاروں کی موجودگی میں شہری خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں جب کہ پاکستانی فورسز کو دور سے دیکھ کر یا معلوم پڑنے پر لوگوں کی اکثریت جہاں پناہ ملتی ہے، چھپ جاتے ہیں۔
خاران کے واقعے سے قبل زہری میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال دیکھی گئی تھی، جہاں سرمچاروں نے کئی ہفتوں تک زہری کا کنٹرول سنھبالا تھا اس دوران چوری، منشیات فروشی اور ڈیتھ اسکواڈز کی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو گئی تھیں، مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں شہر میں غیر معمولی امن قائم رہا جبکہ سرکاری فورسز کی موجودگی میں یہی علاقے بدسلوکی، گرفتاریوں اور تشدد کی زد میں تھے، بلوچستان کے تمام جرائم پیشہ گروہوں کی سرپرستی سرعام فورسز کر رہے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی باتیں نہیں ہیں۔
پاکستان اور پاکستانی فورسز اپنے ناکامی کو چھپانے کے لئے سرمچاروں کا شہروں پر کنٹرول کو ڈکیتی کی واردات کہتے ہیں جبکہ حقیقت میں ریاستی بیانیہ نہ صرف ریاست بلکہ دنیا کے سامنے بھی یہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ کیا بلوچستان میں اصل مسئلہ امن و امان ہے یا ریاست اور بلوچ قوم کے درمیان فاصلے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اب انہیں ختم کرنا ناممکن ہوچکا ہے، یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ بیانیے کی یہ جنگ حقائق کو بدل سکتی ہے یا صرف چھپا سکتی ہے؟
حقائق واضح ہیں، بلوچ قوم کی ریاست سے بیزاری اور نفرت محض ایک بیانیہ نہیں بلکہ واضح قومی تحریک آزادی میں ڈھل چکا ہے یہی وجہ ہے کہ سرمچاروں کے آمد پر شہروں میں جشن کا سماں ہوتا ہے اور پاکستانی فورسز خوف و دہشت کے علامت بن چکے ہیں۔ بلوچ جہدکاروں کی مقبولیت اور اپنی نکامی چھپانے کے لیے حکومت سرمچاروں کی بڑھتی کامیاب کاروائیوں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے، ممکن ہے کہ ہاکستان کی میڈیا وار اور جھوٹے بیانیہ کو پنجاب میں سنا جائے لیکن بلوچستان میں معروضی حالات بلکل مختلف ہیں۔
