
بلوچستان کے ضلع خاران میں گزشتہ روز شام کے وقت سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی۔ علاقائی ذرائع کے مطابق سینکڑوں کی تعداد میں بھاری ہتھیاروں سے لیس مسلح افراد شہر میں داخل ہوئے اور مختلف سرکاری دفاتر پر قبضے کے بعد شہر کے بعض حصوں پر کنٹرول جمائے رکھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران اسلحہ اور سرکاری سامان بھی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد اور پاکستانی فورسز کے درمیان شام تقریباً چار بجے سے رات ایک بجے تک گھنٹوں شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ جھڑپوں کے دوران اعلیٰ فوجی افسران سمیت اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق تاحال نہیں کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس تھانے پر قبضے کے بعد قیدیوں کو رہا کیا گیا، پولیس ریکارڈ اور دیگر سامان کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ تھانے میں موجود اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔ مزید یہ کہ جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کا اسلحہ قبضے میں لے گئے ہیں۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاران کے ریڈ زون میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران تین فوجی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوئیں، جبکہ دو بکتر بند گاڑیوں کے تباہ ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ان گاڑیوں میں سوار تمام اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، اسی طرح دو پولیس اہلکاروں اور پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ ایک مسلح گروہ کے دو کارندوں کی ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
مزید برآں، ذرائع نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران دس سے زائد کواڈ کاپٹر ڈرونز مار گرائے گئے، جبکہ حملے میں درجن بھر اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی دی جا رہی ہیں۔ اعلیٰ فوجی افسران کے زخمی ہونے کی تصدیق بعض ذرائع نے کی ہے۔ جن میں لفٹیننٹ کرنل ودوھان اور میجر رینک کے آفیسر عاصم سمیت ایک صوبیدار شامل ہے۔
قریبی رہائشیوں کے مطابق جھڑپوں کے بعد ریڈ زون میں ہلاک فوجی اہلکاروں کی لاشوں کے قریب مسلح افراد کو دیکھا گیا جس میں مسلح افراد ان کا اسلحہ اور دیگر سازوسامان قبضے میں لے رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق شدید جھڑپوں کے بعد شہر کو مکمل طور پر فوج کے محاصرے میں لے لیا گیا ہے اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندی قائم کر دی ہے، جبکہ گشت اور چیکنگ میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ کرفیو کے نفاذ کے باعث بازار، تعلیمی ادارے اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔
ذرائع کے مطابق خاران کا مرکزی اسپتال بھی پاکستانی فورسز کے کنٹرول میں ہے اور عام شہریوں کو اسپتال جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اسی دوران اطلاعات ہیں کہ چار مزید شدید زخمی فوجیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
