آواران، تمپ، اورماڑہ اور مشکے میں قابض پاکستانی فوج پر حملوں میں 24 اہلکار ہلاک اور متعد زخمی ہوئے۔ بی ایل ایف 

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے کہا ہے کہ سرمچاروں نے 14 جنوری کو سہ پہر تقریباً چار بجے آواران کے علاقے پیراندر میں غلام محمد بازار کے قریب فوجی قافلے میں شامل ایک پک اپ گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 12 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اس واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے، جو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے میڈیا چینل آشوب پر جلد شائع کی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ اسی روز ایک اور کارروائی میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے تمپ کے علاقے نزرآباد میں دوپہر تقریباً بارہ بجے قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ مختلف راستوں پر خفیہ ناکے قائم کیے ہوئے تھے۔ سرمچاروں نے ایک حکمتِ عملی کے تحت کارروائی کی، جس کے نتیجے میں چار اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ جھڑپ کے دوران فوج کو فوری طور پر زمینی اور فضائی مدد فراہم کی گئی اور ڈرون طیارے بھی اڑائے گئے، تاہم سرمچار کامیاب کارروائی کے بعد بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور کاروائی میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے چودہ جنوری کو کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ اور پسنی کے درمیان کواری کے مقام پر ناکہ بندی قائم کر کے گاڑیوں کی چیکنگ کی۔ اس دوران قریبی پولیس چوکی پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پولیس چوکی کو عارضی طور پر اپنے کنٹرول میں لے کر وہاں موجود اسلحہ ضبط کر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کے دوران کمک کے لیے آنے والے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قافلے کو ایل ایم جی اور راکٹوں سے گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قافلے میں شامل ایک گاڑی راکٹ لگنے سے سڑک سے نیچے جا گری، جس سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور اس میں سوار چھ اہلکار ہلاک ہو گئے۔ بعد ازاں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی جانب سے سرمچاروں کا تعاقب کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم تعاقب کے دوران ہونے والی جھڑپ میں مزید دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔اس کارروائی کے دوران پولیس چوکی سے تین کلاشنکوفیں اور دیگر عسکری سامان تحویل میں لیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ اسی روز ایک اور کاروائی چودہ جنوری کو شام تقریباً پانچ بجے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے مشکے کے علاقہ ملش بند میں قائم پاکستانی فوجی چیک پوسٹ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ آواران، تمپ، اورماڑہ اور مشکے میں ہونے والے ان حملوں میں قابض پاکستانی فوج کے مجموعی طور پر 24 اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک قابض پاکستانی فوج کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کیچ: زامران کے رہائشی ملا رزاق کی تشدد زدہ لاش برآمد

جمعرات جنوری 15 , 2026
ضلع کیچ کے تحصیل زامران نوانو کے رہائشی ملا رزاق ولد داد محمد کی تشدد زدہ لاش برآمد ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ملا رزاق کو 14 جنوری 2026 کو مبینہ طور پر ریاستی سرپرستی میں سرگرم مسلح ڈیتھ اسکواڈ نے جبری طور پر لاپتہ […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ