
جمعرات کی دوپہر ضلع خاران میں مسلح افراد کے منظم حملوں کے دوران پاکستان آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل ودھان، میجر عاصم اور ایک صوبیدار کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ زخمی افسران کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق درجنوں مسلح افراد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر شہر میں داخل ہوئے اور مختلف مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیں۔ حملہ آوروں نے سب سے پہلے خاران سٹی پولیس تھانے پر دھاوا بول کر اسے اپنے قبضے میں لیا، جہاں پولیس ریکارڈ کو نذرِ آتش کیا گیا اور تھانے میں موجود قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔ اس دوران سرکاری گاڑیوں اور دیگر سامان کو بھی نقصان پہنچایا گیا جبکہ شہر کے مختلف حصوں میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔
بعد ازاں مسلح افراد خاران کے مرکزی بازار میں داخل ہوئے اور بازار کو گھیرے میں لے کر نیشنل بینک آف پاکستان، میزان بینک اور بینک الحبیب کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ شہریوں کے مطابق حملہ آوروں نے بازار میں موجود افراد سے بات چیت بھی کی۔
اسی دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو کئی گھنٹوں تک دیر تک جاری رہا۔ کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد مسلح افراد مختلف راستوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم کچھ ذرائع نے بتایا کہ شہر میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ خاران کے علاقے کُلان میں پاکستانی فوج نے بکتر بند گاڑیوں اور بھاری نفری کے ساتھ مسلح افراد کو گھیرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ذرائع کے مطابق تازہ جھڑپوں میں تین فوجی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوئیں، جن میں سوار اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔
حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
