
بلوچستان کے علاقے حب سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ایک اور بلوچ خاتون کی جبری گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق حب میں ایک خاتون کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے صنعتی شہر حب کی اکرم کالونی سے فاطمہ زوجہ نوروز اسلام، سکنہ پنجگور، کو پاکستانی فورسز نے ان کے گھر سے حراست میں لیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق گرفتاری کے وقت کوئی وارنٹ پیش نہیں کیا گیا اور خاتون کو بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
اہلِ خانہ نے بتایا کہ فاطمہ کے شوہر نوروز اسلام اس سے قبل تین مرتبہ فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بن چکے ہیں، جس کے باعث خاندان کو طویل عرصے سے ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی 22 نومبر اور دسمبر 2025 کے دوران آواران سے تعلق رکھنے والی نسرینہ بلوچ بنت دلاور اور ہاجرہ نامی خاتون کو حب چوکی سے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔
دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کم از کم 12 بلوچ خواتین اور بچیوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ یہ واقعات انفرادی یا اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم عمل کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں جبری گمشدگی کو اجتماعی سزا کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
