
لندن:بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی مسلسل سفارتی مہم کے نتیجے میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور ڈرون آپریشنز کے معاملے پر برطانوی پارلیمان میں سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد برطانیہ نے پاکستان کو بعض فوجی اور دوہرے استعمال (Dual-Use) کے آلات کی برآمد کے لائسنس دینے سے انکار کر دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب برطانوی لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ جان میکڈونل نے برطانوی پارلیمان میں تحریری سوالات جمع کراتے ہوئے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور وہاں برطانوی ساختہ اسلحہ یا ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔
جان میکڈونل نے وزیرِ مملکت برائے تجارت سے استفسار کیا کہ آیا برطانوی حکومت نے پاکستان کو ایسے فوجی سازوسامان یا دوہرے استعمال کی اشیاء کے برآمدی لائسنس جاری کیے ہیں جو بلوچستان میں ڈرون حملوں یا اندرونی سیکیورٹی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتے ہوں۔
حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے تجارت کرس برائنٹ نے کہا کہ برطانیہ، بلوچستان سمیت پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹس پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ ان کے مطابق شہری و سیاسی حقوق کا تحفظ پاکستان کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی مکالمے کا ایک بنیادی جزو ہے۔
کرس برائنٹ نے تصدیق کی کہ برطانوی حکام، بشمول پاکستان کے امور کے ذمہ دار وزراء، متعدد مواقع پر پاکستانی حکام کے ساتھ انسانی حقوق کے معاملات اٹھا چکے ہیں اور آئندہ بھی پاکستان پر زور دیا جاتا رہے گا کہ وہ اپنے آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق تمام شہریوں کے حقوق کو یقینی بنائے۔
اسلحہ کی برآمدات سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فوجی اور دوہرے استعمال کے تمام برآمدی لائسنسوں کا جائزہ برطانیہ کے اسٹریٹجک ایکسپورٹ لائسنسنگ معیار کے تحت انفرادی بنیادوں پر لیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی سامان کے غلط استعمال، اندرونی جبر یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ ہو تو ایسے لائسنس منسوخ یا معطل کیے جا سکتے ہیں۔
وزیرِ مملکت نے انکشاف کیا کہ حالیہ جائزوں کے بعد برطانیہ نے پاکستان کو ان برآمدی لائسنسوں کی فراہمی سے انکار کر دیا ہے جہاں خدشہ تھا کہ یہ سامان بلوچستان میں ڈرون آپریشنز یا اندرونی سیکیورٹی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
یہ پارلیمانی پیش رفت بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دی جا رہی ہے، جس کے تحت تنظیم بین الاقوامی فورمز پر بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور سیاسی مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔
بی این ایم کے ایک وفد نے 4 دسمبر 2025 کو یورپی پارلیمنٹ کا دورہ بھی کیا تھا، جہاں یورپی اراکینِ پارلیمنٹ سے پاکستان کی GSP+ تجارتی رعایت معطل کرنے کی اپیل کی گئی۔ وفد کا مؤقف تھا کہ پاکستان انسانی حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق GSP+ کی متعدد شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
بی این ایم کے نمائندوں نے برطانوی پارلیمان میں ان سوالات کو بلوچستان میں پاکستان کے اقدامات کی عالمی سطح پر جانچ پڑتال کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔
