
کوئٹہ میں پاکستانی فورسز کی جانب سے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ارسلان شاہوانی ولد حاجی محمد یعقوب، سکنہ کلی چوتو مستونگ کو گزشتہ رات کوئٹہ کے ایئرپورٹ روڈ سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ارسلان شاہوانی کوئٹہ میں ایک بیکری فیکٹری میں کام کرتا تھا اور وہیں مقیم تھا۔ واقعے کے بعد سے تاحال حکام کی جانب سے نوجوان کی گرفتاری یا جبری گمشدگی کے حوالے سے کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب کیچ ضلع کی تحصیل تمپ کے علاقے ہوت آباد میں 7 جنوری کو ہونے والی چھاپہ مار کارروائیوں کے بعد جبری لاپتہ کیے گئے افراد میں سے دو نوجوان بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
علاقائی ذرائع کے مطابق 7 جنوری کو پاکستانی فورسز نے تمپ کے علاقے ہوت آباد میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں، جن کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا۔ جبری لاپتہ کیے گئے افراد میں حسرت حاصل، کاشف یعقوب، ریاض یعقوب، داد کریم، خدابخش، جلیل خدابخش، سلیم، علی بخش، ساجد، شاہ جہاں، ولی، ریاض حسن، فضائل رفیق اور سراج برکت شامل تھے۔
اب موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان میں سے ریاض حسن اور سجاد برکت نامی دو نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں، تاہم دیگر لاپتہ افراد کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
