
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام احتجاجی کیمپ 6041ویں روز بھی جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ کی قیادت تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کر رہے ہیں، جو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے نصب ہے۔
اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
احتجاج میں نسرینہ بلوچ کے اہلخانہ نے بھی شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اہلخانہ کے مطابق نسرینہ کو گزشتہ سال ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے زہری گوٹھ، دارو ہوٹل حب چوکی سے حراست میں لیا، جس کے بعد انہیں لاپتہ کر دیا گیا۔
اہلخانہ نے مزید بتایا کہ انصاف کے لیے متعلقہ تھانہ سے رجوع کیا گیا، لیکن پولیس نے نسرینہ کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج نہیں کی اور نہ ہی کوئی معلومات فراہم کیں، جس کی وجہ سے اہلخانہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ نسرینہ بلوچ سمیت دیگر بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی اور انہیں منظر عام پر نہ لانا شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچ خواتین کی محفوظ بازیابی میں اپنا کردار ادا کرے۔
