
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 7 جنوری کو مند میں زبیدہ جلال اسکول میں قابض پاکستانی فوج کی جانب سے منعقد کی گئی نام نہاد کھلی کچہری کے دوران گرنیڈ لانچروں سے حملہ کیا۔ سرمچاروں نے گرنیڈ لانچر سے متعدد گرنیڈ داغے جو اپنے اہداف پر جا گرے، جس کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار سمیت دو کسٹم اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ وہاں کھڑی ایک ایف سی گاڑی سمیت متعدد دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
ترجمان نے کہا کہ یہ نام نہاد کھلی کچہری (جرگہ) قابض ایف سی کے ڈپٹی کمانڈنٹ کرنل آصف اور ونگ کمانڈر کرنل قیصر کی قیادت میں منعقد کی گئی تھی، جس میں بلوچستان کی کھٹ پتلی اسمبلی کے رکن برکت رند اور فدا حکیم رند سمیت قابض فوج کے دیگر علاقائی کاسہ لیس افراد بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 6 جنوری کو دشت کے مقام پر تربت–گوادر اور کراچی جانے والی سی پیک شاہراہ پر شام چھ بجے سے رات نو بجے تک ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کی، اور سینکڑوں گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس دوران سرمچاروں نے قریبی پولیس چوکی کا محاصرہ کر کے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو حراست میں لیا، اور چوکی میں موجود تمام سرکاری اسلحہ قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واضح رہے کہ یہ پولیس چوکی عوام، بالخصوص ٹرانسپورٹ برادری کو تنگ کرنے اور بھتہ وصول کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے، اور اس چوکی سے وصول کیا جانے والا بھتہ براہِ راست ضلعی انتظامیہ کو دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ایک اور کارروائی میں7 جنوری کی شام پانچ بجے حب چوکی اور وندر کے درمیان مرکزی شاہراہ پر قائم کوسٹ گارڈ چیک پوسٹ کو دستی بم سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار زخمی ہوا اور چوکی کو نقصان پہنچا۔
ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 7 جنوری کو ناصر آباد میں قابض پاکستانی فوج کی جانب سے نصب کردہ نگرانی کے کیمروں کو نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مند، تربت اور حب میں چار مختلف کارروائیوں کے دوران ریاستی فورسز کے چار اہلکاروں کو زخمی کرنے، تربت سی پیک شاہراہ پر ناکہ بندی کرنے، اور سرویلنس کیمروں سمیت ایک پولیس چوکی پر قبضہ کر کے اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
