
کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام احتجاجی کیمپ 6050ویں روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور جبری گمشدگیوں، ماورائے قانون قتل کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے بریت سے برآمد ہونے والی لاشوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لواحقین نے تنظیم سے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ جن افراد کی لاشیں ملی ہیں، انہیں مبینہ طور پر فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
نصراللہ بلوچ کے مطابق ایاز بلوچ ولد دوست محمد کا تعلق کولواہ کے علاقے گیشکور کے گاؤں سنڈم سے تھا، جنہیں 16 اکتوبر 2025 کو امداد بلوچ نامی نوجوان کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔ اسی طرح ظریف احمد ولد مستری فقیر محمد، جو کولواہ کے علاقے مالار سیاہ کل کے رہائشی تھے، 28 ستمبر 2025 کو اپنے گھر سے حراست میں لیے گئے تھے۔ بعد ازاں ان کے ساتھ گرفتار ایک شخص کو رہا کر دیا گیا، تاہم ظریف احمد کے بارے میں کوئی اطلاع نہ مل سکی، یہاں تک کہ اب ان کی لاش برآمد ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ملکی قوانین اور اسلام کسی بھی صورت دورانِ حراست ماورائے قانون قتل کی اجازت نہیں دیتے اور نہ ہی لاشوں کو ویران علاقوں میں پھینکنا کسی طور درست ہے۔ نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایسے اقدامات حب الوطنی کے زمرے میں آتے ہیں یا ان سے بلوچستان کے حالات بہتر ہوں گے تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ ان کے بقول، گزشتہ دو دہائیوں سے قومی سلامتی کے نام پر جاری اقدامات کے باوجود بلوچستان کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کی بقا اسی میں ہے کہ ریاست اور ریاستی ادارے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، بلوچستان میں ماورائے قانون اقدامات کا مکمل سدباب کریں، اہلِ بلوچستان کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق رویہ اپنایا جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کیا جائے۔
آخر میں وی بی ایم پی نے ایک بار پھر جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبے کو دہرایا۔
