آواران: جبری لاپتہ دو افراد کی لاشیں برآمد، بلوچستان میں چھ روز میں 10 لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوئے

بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے بریت سے جبری لاپتہ کیے گئے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقتولین کی شناخت ایاض بلوچ ولد دوست محمد اور ظریف احمد ولد مستری فقیر محمد کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو پاکستانی فوج نے مختلف اوقات میں حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، بعد ازاں انہیں قتل کر کے لاشیں پھینک دی گئیں۔

مقتول ایاض بلوچ کا تعلق کولواہ، گیشکور کے گاؤں سنڈم سے بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایاز بلوچ کو 16 اکتوبر 2025 کو امداد بلوچ نامی ایک اور نوجوان کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے تھے۔

دوسری جانب ظریف احمد کولواہ کے علاقے مالار سیاہ کل کے رہائشی تھے۔ ذرائع کے مطابق انہیں 28 ستمبر کی رات ان کے گھر سے آدم حسین ولد عبداللہ کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں آدم حسین کو رہا کر دیا گیا جبکہ ظریف احمد لاپتہ رہے۔

دونوں لاپتہ افراد کی لاشیں آج آواران کے علاقے بریت سے برآمد ہوئیں۔

مزید برآں، بلوچستان میں گزشتہ چھ روز کے دوران جبری لاپتہ کیے گئے کم از کم 10 افراد کی لاشیں مختلف علاقوں سے برآمد ہو چکی ہیں، ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ان افراد کو پاکستانی فوج نے ماروائے عدالت قتل کرکے ان کی لاشیں پھنک دی۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

تربت: ایم 8 شاہراہ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی، پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی اطلاعات

بدھ جنوری 7 , 2026
تربت میں ایم 8 سی پیک شاہراہ پر تربت اور دشت کے درمیان لوڈی جنگجاہ کے مقام پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ناکہ بندی اور پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ رات تقریباً 9 بجے سے ساڑھے 10 بجے تک […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ