
تحریر :دلجان بلوچ
گزرا ہوا سال ہر سال کی طرح ہماری قومی تاریخ کا ایک ایسا باب تھا جو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ سال تھا جس میں بے شمار قربانیوں نے ہمارے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑا اور ہمیں یہ یاد دلایا کہ آزادی محض ایک خیال نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، جو لہو، صبر اور استقامت مانگتی ہے۔ جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، وہ صرف فرد نہیں تھے بلکہ ایک عہد، ایک راستہ اور ایک مستقبل کی علامت تھے۔
قومیں آزمائشوں کے ادوار سے گزر کر ہی بالغ ہوتی ہیں۔ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہمارے سامنے راستے پہلے سے زیادہ دشوار ضرور ہیں، مگر یہ دشواری ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری سنجیدگی کا ثبوت ہے۔ اب ہماری ذمہ داریاں زیادہ واضح ہیں، ہماری سمت زیادہ متعین ہے اور ہمارے فیصلوں میں پہلے سے زیادہ وزن آ چکا ہے۔ یہ وقت جذباتی ردعمل کا نہیں بلکہ باوقار استقامت کا ہے۔
دشمن صرف وہ نہیں جو سامنے نظر آتا ہے، اصل دشمن مایوسی، خوف اور تھکن کا احساس ہے۔ اگر یہ دل میں جگہ بنا لے تو بڑے سے بڑا عزم بھی بکھر جاتا ہے۔ مگر ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہر دور میں ان اندھیروں کو پہچانا ہے اور انہیں قبول کرنے کے بجائے ان کا سامنا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہماری اجتماعی سوچ میں شکست کا تصور نہیں بلکہ بقا کا یقین زندہ ہے۔
یہ جدوجہد کسی ایک سال یا ایک نسل تک محدود نہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو وقت کے ساتھ پختہ ہوتا ہے۔ ہر قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ آزادی جلدی نہیں ملتی، مگر جو قوم صبر کے ساتھ اپنے مقصد پر قائم رہے، اس کی منزل اس سے روٹھ نہیں سکتی۔ حوصلہ وہ طاقت ہے جو خاموشی میں جنم لیتی ہے اور آہستہ آہستہ ایک پوری قوم کا مزاج بن جاتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امید کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب ہے۔ جب حالات سخت ہوں، تب بھی آگے بڑھنے کا فیصلہ ہی اصل فتح کی بنیاد رکھتا ہے۔ جو قوم اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنی مٹی پر یقین رکھتی ہو، اسے وقتی دباؤ کبھی ختم نہیں کر سکتا۔
نیا سال ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ راستہ طویل سہی، مگر بے سمت نہیں۔ قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں، وہ آنے والے دنوں کی بنیاد بنتی ہیں۔ اگر ہم اپنے حوصلے کو زندہ رکھیں، اپنے جذبات کو شعور کے ساتھ جوڑیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھائیں، تو یقیناً مستقبل ہمارے عزم کا اعتراف کرے گا۔
آزادی محض ایک خواب نہیں، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو یقین، قربانی اور مسلسل جدوجہد سے جنم لیتی ہے۔ اور جو قوم یہ تینوں اوصاف اپنے اندر زندہ رکھتی ہو، اس کی تاریخ کا اختتام کبھی شکست پر نہیں ہوتا۔
