
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کے قیادت میں کوئٹہ پریس کے سامنے 6047ویں روز جاری رہا۔
اس موقع پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی، انہوں نے جبری گمشدگیوں کی خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
اس دوران جبری لاپتہ نسرین کے لواحقین نے احتجاج میں شرکت کی، انہوں نے نسرین کی جبری گمشدگی کی تفصیلات وی بی ایم پی کو فراہم کردیں، انہوں نے تنظیم سے شکایت کی، کہ نسرین سکنہ آوران کو ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے نزد دارو خان ہوٹل، حب چوکی سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے متعلقہ تھانہ سے نسرین کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر کے اندراج کے حوالے سے کئی بار رابطہ کیا، لیکن ایس ایچ او نے ایف آئی آر درج نہیں کی، لواحقین کا کہنا ہے کہ نہ نسرین کی جبری گمشدگی کی ایف آئی درج کیا جارہا ہے، اور نہ ہی ان کے حوالے سے انتظامیہ خاندان کو معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جسکی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباو کے شکار ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دھانی کرائی، کہ تنظیمی سطح پر نسرین کے کیس کو کمیشن اور صوبائی حکومت کو فراہم کیا جائے گا، اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر بلند کیا جائے گا
نصراللہ بلوچ نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ نسرین بلوچ سیمت دیگر بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کا نوٹس لیں، اگر بلوچ خواتین پر کوئی الزام ہے، تو ان کو منظر عام پر لاکر عدالتوں میں پیش کیا جائے، اور اگر بےقصور ہے تو ان کی رہائی کو فوری طور پر یقینی بنا کر ان کے خاندان کو زندگی بھر کی اذیت سے نجات دلانے میں اپنی کردار ادا کرے۔
