
تحریر: رامین بلوچ
اکیسویں صدی کو اگر کسی ایک لفظ میں سمیٹا جائے تو وہ بلا شبہ تکنیکی و معلوماتی گلوبلائزیشن ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور تیز رفتار مواصلاتی نظام نے دنیا کو ایک “ڈیجیٹل گاؤں” میں تبدیل کر دیا ہے۔ تاہم یہ محض ایک معاشی، تکنیکی یا تجارتی اصطلاح نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر فکری، سماجی، اطلاعاتی، سیاسی اور تہذیبی مظہر ہے، جس نے انسانی دنیا کے ادراک، روابط اور جدوجہد کے تمام زاویوں کو ازسرِنو تشکیل دیا ہے۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے واقعی دنیا کو ایک ڈیجیٹل ولیج میں بدل دیا ہے، جہاں فاصلے علامتی ہو چکے ہیں اور وقت کی قید بڑی حد تک اپنی معنویت کھو بیٹھی ہے۔ آج امریکہ میں بیٹھا ہوا ایک فرد بلوچستان کے کسی دور افتادہ گاؤں کے انسان سے اسکرین کے ذریعے براہِ راست مخاطب ہو سکتا ہے؛ اسے سن سکتا ہے، دیکھ سکتا ہے اور اس کی آواز کو محسوس کر سکتا ہے۔ یہ محض تکنیکی پیش رفت نہیں، بلکہ انسانی تجربے کی ساخت میں آنے والی ایک بنیادی اور انقلابی تبدیلی ہے۔
گلوبلائزیشن کا سب سے نمایاں اثر وقت اور فاصلے کے تصور پر پڑا ہے، جو ڈیجیٹل کمیونیکیشن، سیٹلائٹ میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ اب ایک فرد خود کو بیک وقت کئی مقامات پر موجود محسوس کرتا ہے۔
مزید برآں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اجارہ داری کے روایتی تصورات کو بھی بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اجارہ داری اب محض عسکری قوت، ریاستی اختیار یا جغرافیائی قبضے تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے اپنی نئی شکل ڈیٹا، الگورتھمز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور بیانیے کی تشکیل میں اختیار کر لی ہے۔ آج طاقت کا اصل سرچشمہ وہ قوتیں ہیں جو معلومات کے بہاؤ، ڈیجیٹل رسائی اور شعور کی تشکیل پر اجارہ رکھتی ہیں، اور یوں رائے عامہ، شناخت اور سیاسی سمت کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
بلاشبہ گلوبلائزیشن نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کو محض ایک گلوبل ولیج ہی نہیں بلکہ علامتی طور پر ایک ہی کمرے میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں جغرافیائی فاصلے، زمانی حدود اور دیواریں بڑی حد تک غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اسمارٹ فونز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے انسانی رابطے کی نوعیت کو یکسر بدل دیا ہے۔ آج ایک فرد چند سیکنڈز میں براعظموں کے پار موجود لوگوں سے نہ صرف گفتگو کر سکتا ہے بلکہ علم، خیالات، تصاویر، آواز اور ویڈیوز کا تبادلہ بھی فوری طور پر ممکن ہے۔یہ ڈیجیٹل قربت محض سہولت تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے علم کی ترسیل، سیاست، معیشت، ثقافت اور سماجی شعور کے ڈھانچوں کو بھی ازسرِنو تشکیل دیا ہے۔ تعلیمی وسائل جو کبھی مخصوص اداروں یا ممالک تک محدود تھے، اب آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے عام فرد کی دسترس میں ہیں۔ اسی طرح سیاسی شعور، مزاحمتی بیانیے اور سماجی تحریکیں بھی عالمی سطح پر ایک دوسرے سے جڑ گئی ہیں، جس سے طاقت کے روایتی مراکز کو چیلنج درپیش ہوا ہے۔تااہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس ’’ایک کمرے‘‘ میں اکٹھا ہونا مکمل مساوات کی ضمانت نہیں۔ ڈیجیٹل ناہمواری، معلوماتی اجارہ داری، کارپوریٹ کنٹرول اور ثقافتی یلغار جیسے مسائل بھی گلوبلائزیشن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ استعماری ریاستیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں استعمار زدہ سما جوں کو مختلف قسم کے لائق خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یوں گلوبلائزیشن کا یہ انفارمیشن عہد ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے: ایک طرف یہ انسانیت کو قریب لاتا ہے، علم اور اظہار کے نئے امکانات پیدا کرتا ہے، اور دوسری طرف طاقت، کنٹرول اور عدم مساوات کی نئی شکلوں کو جنم دیتا ہے۔ اصل چیلنج یہی ہے کہ اس ’’عالمی کمرے‘‘ میں شمولیت کو شعوری، منصفانہ اور انسان دوست بنیادوں پر استوار کیا جائے۔
اب یہ محض کوئی قیاس یا دعویٰ نہیں رہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے مواصلاتی خلا کو تقریباً ختم کر دیا ہے، بلکہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے۔ وہ معلومات جو ماضی میں طاقتور ریاستی اداروں، مرکزی میڈیا ہاؤسز اور اشرافیائی حلقوں کے سخت کنٹرول میں ہوا کرتی تھیں، آج ایک عام فرد کے ہاتھ میں موجود موبائل فون کے ذریعے عالمی سطح پر پھیل سکتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جس نے طاقت کے کلاسیکی ڈھانچے (Classical Power Structure) کو سنجیدہ چیلنج درپیش کر دیا ہے اور ایک نئے ڈیجیٹل عوامی شعور (Digital Public Consciousness) کو جنم دیا ہے۔
اسی تناظر میں اگر بلوچ تحریکِ آزادی، استعماری جنگی جرائم اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے ان معاملات کو محض مقامی یا علاقائی سطح تک محدود نہیں رہنے دیا۔ وہ آوازیں جو کبھی بند کمروں، خاموشی اور خوف کے حصار میں دب جاتی تھیں، آج ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بین الاقوامی اداروں، عالمی پارلیمانوں، عالمی میڈیا اور عالمی برادری تک رسائی حاصل کر چکی ہیں۔ یہ عمل محض معلومات کی ترسیل نہیں، بلکہ استعماری بیانیے (Colonial Narrative) کے خلاف ایک منظم فکری اور سیاسی مزاحمت ہے،
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے وقت کے دورانیے کو کم کر دیا ہے اور ردِعمل کی رفتار کو غیر معمولی حد تک تیز کر دیا ہے۔ جہاں ماضی میں اپنی موقف کو آزادانہ طور پر عالمی سطح پر پہنچانے میں برسوں لگ جاتے تھے، آج وہی معاملہ چند سیکنڈوں گھنٹوں یا دنوں میں عالمی اداروں کی رپورٹوں، مباحث اور قراردادوں کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ عمل جدید سیاسیات میں ڈیجیٹل ایکٹیوزم (Digital Activism) اور نیٹ ورکڈ ریزسٹنس (Networked Resistance) کے نام سے جانا جاتا ہے، جو ریاستی طاقت کے یک رخی کنٹرول کو کمزور کرتا ہے۔یہ کہنا بجا ہے کہ یہ صورتِ حال انسانی ترقی کی معراج ہے، کیونکہ یہاں ٹیکنالوجی محض سہولت نہیں بلکہ انصاف، شعور اور احتساب کا ذریعہ بن رہی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے محکوم کو زبان دی ہے، خاموش کو آواز دی ہے، اور نظر انداز شدہ انسان کو تاریخ کے متن میں شامل کیا ہے۔ یہ وہ انقلابی تبدیلی ہے جس میں معلومات، دستاویز عالمی رائے عامہ کے ہاتھ میں منتقل ہو رہی ہے۔
تاہم ایک سائنسی اور منطقی تجزیہ یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس عمل کو رومانویت کے بجائے شعوری تنقید کی نظر سے دیکھیں۔ ڈیجیٹل دنیا جہاں حقائق کو پھیلانے کا ذریعہ ہے، وہیں غلط معلومات، بیانیاتی جنگ (Information Warfare) اور ڈیجیٹل سنسرشپ کا میدان بھی ہے۔ ریاستیں اور طاقتور ادارے بھی انہی ٹیکنالوجیز کو نگرانی، کنٹرول اور بیانیہ سازی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اصل سوال ٹیکنالوجی کا نہیں، بلکہ سیاسی شعور، اخلاقی ذمہ داری اور اجتماعی حکمت کا ہے۔ اگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو انسانی وقار، آزا دی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ مظلوم اقوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ لیکن اگر اسے محض طاقت، منافع اور کنٹرول کے لیے بروئے کار لایا جائے تو یہی ٹیکنالوجی نئے استعمار (Neo-Colonialism) کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
گلوبلائزیشن محض عالمی منڈیوں، سرمایہ کے بہاؤ یا ٹیکنالوجی کی توسیع کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی تاریخ میں علم، طاقت اور سیاست کے تعلق کی ازسرِنو تشکیل ہے۔ اس عمل نے سب سے بنیادی اور انقلابی کام یہ انجام دیا ہے کہ علم کو اشرافیہ کی ملکیت (Elite Property) سے نکال کر عوامی دسترس میں دے دیا ہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے علم کے وہ دروازے کھول دیے ہیں جو صدیوں تک طاقتور طبقات، ریاستی اداروں اور محدود علمی مراکز کے زیرِ اثر رہے۔ آج ایک عام طالب علم دنیا کی بہترین جامعات کے لیکچرز، تحقیقی جرنلز اور سائنسی مواد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جو ماضی میں صرف مخصوص طبقے کا امتیاز تھا۔یہی اصول سیاست اور مزاحمتی شعور پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ آج ایک عام بلوچ سیاسی کارکن اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی، ظلم، جبر اور بربریت کی داستان کو محض مقامی حلقے تک محدود رکھنے پر مجبور نہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اسے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنا بیانیہ، موقف، نظریات اور اجتماعی تجربہ دنیا کے آخری کونے اور آخری انسان تک پہنچا سکے۔ یہ عمل صرف اظہارِ رائے نہیں بلکہ بیانیاتی خودمختاری (Narrative Sovereignty) کا اعلان ہے، جہاں مظلوم اپنی کہانی خود سناتا ہے، نہ کہ طاقتور اس کی ترجمانی کرتا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا نے بلوچ ڈائسپورا کو ایک منتشر گروہ کے بجائے ایک سیاسی و فکری نیٹ ورک میں تبدیل کر دیا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں موجود بلوچ کارکن اب دیگر آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی محکوم اقوام کے ساتھ ایک ہی فورم پر جُڑ چکے ہیں۔ یہ ربط محض جذباتی یکجہتی نہیں بلکہ ایک عالمی مزاحمتی شعور (Global Resistance Consciousness) کی تشکیل ہے، جس نے بلوچ سفارت کاری کو نئی رفتار اور نئی معنویت عطا کی ہے۔ ریاستی سرحدوں سے ماورا یہ سفارت کاری ڈیجیٹل اسپیس میں تشکیل پاتی ہے، جہاں طاقت کا انحصار ہتھیار یا سرمایہ نہیں بلکہ معلومات، دستاویز اور عالمی رائے عامہ پر ہوتا ہے۔
گلوبلائزیشن کے اس عمل نے مختلف تہذیبوں اور اقوام کے درمیان مکالمے کو بھی ممکن بنایا ہے۔ وہ اقوام جو کبھی ایک دوسرے سے ناآشنا تھیں، آج مشترکہ تجربات، مشترکہ جبر اور مشترکہ امیدوں کے ذریعے فکری طور پر جُڑ رہی ہیں۔ یہ مکالمہ عالمی سیاست میں یک طرفہ بیانیے کو کمزور کرتا ہے اور ایک کثیر الصوت (Pluralistic) عالمی شعور کو جنم دیتا ہے، جو جدید سیاسی فکر کا بنیادی تقاضا ہے۔
اسی ڈیجیٹل انقلاب کے اثرات انسانی صحت اور سائنس کے شعبے میں بھی نمایاں ہیں۔ میڈیکل ریسرچ، ٹیلی میڈیسن اور ڈیٹا شیئرنگ نے علاج کو جغرافیائی حدود سے آزاد کر دیا ہے۔ آج دور دراز علاقوں میں موجود افراد بھی جدید طبی مشاورت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر ڈیٹا کے تبادلے نے وباؤں، بیماریوں اور طبی تحقیق کے خلاف مشترکہ انسانی ردِعمل کو ممکن بنایا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اگر انسانی ضرورت اور اخلاقی مقصد کے ساتھ جُڑ جائے تو وہ حقیقی معنوں میں ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ گلوبلائزیشن نے طاقت کے روایتی مراکز کو چیلنج کیا ہے۔ علم، سیاست اور سفارت کاری اب صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہے، بلکہ عوامی سطح پر منتقل ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محکوم اقوام کی جدوجہد آج زیادہ منظم، زیادہ مربوط اور زیادہ عالمی ہو چکی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے مظلوم کو محض موضوع (Subject) نہیں بلکہ فاعل بنا دیا ہے۔
گلوبلائزیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے جہاں بے شمار مثبت پہلو ہیں، وہیں اس کا ایک دوسرا اور نسبتاً خاموش مگر گہرا اثر بھی ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکنالوجی نے بلاشبہ دنیا کو قریب کر دیا ہے، مگر اسی عمل میں انسان ایک دوسرے سے جذباتی طور پر دور بھی ہوتا چلا گیا ہے۔ یہ تضاد اکیسویں صدی کے انسانی تجربے کا سب سے اہم اور تکلیف دہ پہلو ہے۔مجھے یاد ہے بچپن یا بلوغت کے ابتدائی ادوار میں، جب ہم کسی دور افتادہ گاؤں میں غیر رسمی نشستوں پر مشتمل محفلیں جماتے تھے۔ ان محفلوں میں ہمارے بزرگ ہمارے ساتھ لوک کہانیاں شیئر کرتے، تاریخ پر گفتگو ہوتی، سیاست زیرِ بحث آتی، نجی اور اجتماعی معاملات پر بات ہوتی، اور بلوچی روایات، اقدار اور قومی شعور پر سنجیدہ مکالمہ جاری رہتا۔ یہ محفلیں محض وقت گزاری نہیں ہوتیں تھیں، بلکہ ایک زندہ سماجی درسگاہ ہوتی تھیں، جہاں نسل در نسل علم، تجربہ اور شعور منتقل ہوتا تھا۔ ان لمحوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ایک حقیقی، گہرا اور بے ساختہ جذباتی تعلق موجود ہوتا تھا، جو آنکھوں کی چمک، چہروں کی مسکراہٹ اور خاموشی میں چھپی معنویت سے جھانکتا تھا۔
لیکن آج موبائل فون اور اسکرین سے حد سے زیادہ وابستگی نے ہمیں ایک دوسرے سے جذباتی طور پر دور کر دیا ہے۔ وہ محفلیں جو کبھی زندگی، مکالمے اور قربت سے آباد تھیں، اب ویران ہو چکی ہیں۔ خاندان اور کمیونٹی ایک ہی چھت کے نیچے موجود ہوتے ہوئے بھی الگ الگ اسکرینوں میں گم ہیں۔ ہم بظاہر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر درحقیقت تنہائی کے ایک نئے اور پیچیدہ تجربے سے گزر رہے ہیں۔ ورچوئل کنکشن، حقیقی انسانی اور جذباتی تعلق کا متبادل کبھی نہیں بن سکتا، کیونکہ اس میں لمس، خاموشی، آنکھوں کی زبان اور مشترکہ احساس کی وہ گہرائی موجود نہیں ہوتی جو براہِ راست انسانی ربط کا خاصہ ہے۔اسی طرح فراغت کے لمحات میں ہم مطالعہ کیا کرتے تھے۔ کبھی ڈیڑھ سو صفحات ایک نشست میں پڑھ لیتے، کبھی کم اور کبھی زیادہ، مگر کتاب کے ساتھ ایک رشتہ قائم ہوتا تھا۔ بارش کے دنوں میں ہم قوسِ قزح سے لطف اندوز ہوتے، جب بادلوں پر سورج کی کرنیں پڑتیں تو فضا میں سات رنگی لکیریں نمایاں ہوتیں، اور فطرت کے یہ مناظر ہمیں خاموشی سے زندگی کا مفہوم سکھاتے تھے۔ آج اسکرین نے نہ صرف ہماری توجہ بلکہ ہمارے مشاہدے، تخیل اور فطرت سے تعلق کو بھی محدود کر دیا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے انسان کو معلومات تو دے دی ہیں، مگر وقت، ٹھہراؤ اور گہرے احساس سے محروم کر دیا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہیں، بلکہ اس کا بے مہار اور غیر متوازن استعمال ہے، جس نے سماجی رشتوں، ثقافتی تسلسل اور انسانی قربت کو متاثر کیا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم ڈیجیٹل دنیا کو ترک کریں ، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تیز رفتار، ورچوئل عہد میں انسان رہنے کا ہنر دوبارہ سیکھ سکتے ہیں یا نہیں۔
گلوبلائزیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو عموماً انسانی ترقی کی معراج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ علم، مواصلات اور سیاسی شعور کے میدان میں اس نے غیر معمولی سہولتیں اور امکانات پیدا کیے ہیں۔ تاہم ایک سنجیدہ، تجزیہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس عمل کے صرف روشن پہلوؤں پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اس کے اس دوسرے رخ کو بھی پوری دیانت داری سے دیکھیں جو انسانی تعلق، تہذیبی روایت اور جذباتی ساخت کو خاموشی سے کھوکھلا کر رہا ہے۔یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ ماضی قریب میں، خصوصاً دور افتادہ دیہی معاشروں میں، غیر رسمی نشستوں اور محفلوں کا ایک ایسا سماجی نظام موجود تھا جو محض تفریح نہیں بلکہ تہذیبی تربیت (Cultural Socialization) کا بنیادی ذریعہ تھا۔ بزرگوں کی کہانیاں محض قصے نہیں ہوتیں تھیں بلکہ تاریخ، سیاست، اخلاق اور اجتماعی یادداشت کا سرمایہ ہوا کرتی تھیں۔ ان محفلوں میں ، اجتماعی دکھ سکھ بانٹے جاتے، اور انسان انسان کے ساتھ ایک حقیقی، براہِ راست اور جذباتی رشتے میں بندھا ہوتا تھا۔ یہ
مگر آج موبائل فون اور اسکرین سے حد سے زیادہ وابستگی نے انسانی تعلق کی اس فطری ساخت کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ ڈیجیٹل کنکشن نے بظاہر رابطے کو بڑھایا ہے، مگر حقیقت میں جذباتی فاصلے کو وسیع کر دیا ہے۔ وہ محفلیں جو کبھی زندہ چہروں، گرم لہجوں اور مشترکہ احساسات سے آباد تھیں، آج ویران ہو چکی ہیں۔ خاندان اور کمیونٹیز ایک ہی چھت کے نیچے موجود ہوتے ہوئے بھی الگ الگ اسکرینوں میں گم ہیں، جہاں خاموشی مشترک ہے مگر احساس مشترک نہیں۔سائنسی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ ورچوئل رابطہ حقیقی جذباتی تعلق کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اسکرین کے ذریعے منتقل ہونے والا پیغام چہرے کے تاثرات، لمس، آنکھ کے اشارے اور لہجے کی حرارت سے محروم ہوتا ہے، جو انسانی تعلق کی روح ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل دور میں انسان بظاہر زیادہ جڑا ہوا، مگر اندر سے زیادہ تنہا ہو چکا ہے۔ یہ وہ جدید تنہائی (Modern Alienation) ہے جو ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کے بطن سے جنم لیتی ہے۔
اسی تناظر میں مطالعے، فطرت اور داخلی سکون کا زوال بھی ایک اہم علامت ہے۔ وہ وقت جب فراغت کے لمحات کتاب کے ساتھ گزرتے تھے، ، اب اسکرین کے مختصر، منتشر اور سطحی مواد کی نذر ہو چکا ہے۔ مطالعہ جو فکر کی گہرائی، زبان کی تہذیب اور شعور کی پختگی پیدا کرتا تھا، آج تیز رفتار معلوماتی شور میں دب گیا ہے۔فطرت سے تعلق کا کمزور ہونا بھی اسی تہذیبی تبدیلی کا حصہ ہے۔ بارش کے بعد قوسِ قزح سے لطف اندوز ہونا، بادلوں پر پڑتی سورج کی کرنوں سے فضا میں ابھرتی رنگین لکیروں کو دیکھنا، یہ سب تجربات انسانی روح کی غذا تھے۔ مگر اسکرین پر مرکوز زندگی نے انسان کو قدرتی حسن سے بھی بے نیاز کر دیا ہے۔ یوں انسان نہ صرف دوسرے انسان سے بلکہ اپنے ماحول اور اپنی ذات سے بھی دور ہو رہا ہے۔یہ تمام مظاہر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ گلوبلائزیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اگر بغیر فکری توازن، تہذیبی شعور اور اخلاقی نظم کے اختیار کی جائیں تو وہ ترقی کے بجائے تہذیبی انقطاع کا سبب بن سکتی ہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا وجود نہیں، بلکہ اس کا انسان پر غلبہ ہے۔ جب انسان ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے بجائے اس کے زیرِ استعمال آ جائے تو سماج، روایت اور رشتہ سب کمزور پڑ جاتے ہیں۔
گلوبلائزیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اکیسویں صدی کی ناگزیر حقیقت ہیں، مگر ان کا غیر تنقیدی اور غیر متوازن استعمال انسانی رشتوں، مطالعے کی روایت اور فطرت سے تعلق کو زوال کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل سہولتوں کو اپنی زندگی کا مرکز نہیں بلکہ آلہ بنائیں، اور انسانی تعلق، تہذیبی محفل اور فکری گہرائی کو دوبارہ زندہ کریں۔ حقیقی ترقی وہی ہے جو انسان کو محض اسکرین سے نہیں بلکہ انسان، کتاب اور فطرت سے دوبارہ جوڑ دے۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ خیرِ مطلق ہے اور نہ شرِ مطلق۔ فلسفے کی رو سے کائنات کی ہر شے اضداد کے انضمام سے تشکیل پاتی ہے؛ ہر قوت اپنے اندر امکانِ خیر بھی رکھتی ہے اور امکانِ شر بھی۔ یہی جدلیاتی اصول (Dialectics) گلوبلائزیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر بھی صادق آتا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا وجود نہیں، بلکہ انسانی شعور کا وہ درجۂ پختگی ہے جو اس کے استعمال کی سمت متعین کرتا ہے۔
یہ حقیقت اب محض ایک رائے یا اخلاقی شکوہ نہیں رہی، بلکہ سائنسی، نفسیاتی اور سماجی سطح پر ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے کہ اسکرین ایڈکشن نے انسان سے کتاب دوستی چھین لی ہے، مطالعے کی روایت کو کمزور کر دیا ہے اور فکر کی گہرائی کو سطحیت میں بدل دیا ہے۔ وہ معاشرہ جو کبھی کتاب کو زندگی کی رہنمائی، شعور کی تربیت اور فکری بالیدگی کا ذریعہ سمجھتا تھا، آج ریلز، اسکرولنگ اور لمحاتی تفریح کے ایسے دائرے میں قید ہو چکا ہے جہاں توجہ، یکسوئی اور سنجیدہ سوچ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ساخت خود اس طرح ترتیب دی گئی ہے کہ وہ انسان کی توجہ کو منتشر کریں، لمحہ بہ لمحہ لذت فراہم کریں اور گہرے مطالعے کی عادت کو کمزور بنائیں۔ نتیجتاً انسان زیادہ جانتا ضرور ہے، مگر کم سمجھتا ہے؛ زیادہ دیکھتا ہے، مگر کم سوچتا ہے؛ اور زیادہ ردِعمل دیتا ہے، مگر کم غور و فکر کرتا ہے۔ اس صورتِ حال میں فکر کی جگہ تاثر، علم کی جگہ معلومات، اور فہم کی جگہ محض رائے نے لے لی ہے،
تاہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ہم کسی نہ کسی درجے میں اسکرین کے استعمال پر مجبور ہیں، تو یہ فیصلہ بہرحال ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اس وقت کو سطحی، غیر سنجیدہ اور وقتی مواد پر صرف کریں یا اسے علم، تاریخ، فلسفہ اور فکری تربیت کے مطالعے میں بروئے کار لائیں۔ اسکرین بذاتِ خود علم دشمن نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسکرین کو کس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔بالآخر، چاہے انسان کو سافٹ مین کہا جائے یا ہارڈ مین، اصل طاقت جسمانی قوت یا تکنیکی مہارت نہیں، بلکہ علم ہے، اور علم کا راستہ ہمیشہ مطالعے سے ہو کر گزرتا ہے۔ وہ قومیں جو کتاب سے اپنا رشتہ توڑ لیتی ہیں، وقتی طور پر مصروف تو رہتی ہیں، مگر طویل المدت فکری زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس لیے آج سب سے بڑی مزاحمت اور سب سے بڑا انقلابی عمل یہی ہے کہ ہم دوبارہ کتاب کی طرف لوٹیں، گہرے مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اور اسکرین میں فکر کی خاموش مگر طاقتور آواز کو زندہ رکھیں۔
کسی دانشور کا یہ قول بے سبب نہیں کہ "جو مطالعہ کرتا ہے، وہی اعلیٰ حکمت کا ادراک رکھتا ہے۔” مطالعہ محض معلومات کا حصول نہیں بلکہ شعور کی تربیت، احساس کی تہذیب اور نظر کی وسعت کا ذریعہ ہے۔ یہ انسان کے اندر تجزیاتی سوچ، فکری وسعت اور معنوی حساسیت پیدا کرتا ہے، جس کے بغیر نہ تو علمی گہرائی حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی سماجی و ثقافتی بصیرت۔لٹریچر وہ منظر ہے جو میز پر رکھا جائے، اور منظر وہ لٹریچر ہے جو زمین پر بکھرا ہو ایک فلاسفر کا یہ جملہ دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو شخص پڑھتا ہے، اس کے لیے دنیا کی ہر شے ایک متن بن جاتی ہے۔ وہ جہاں بھی جاتا ہے، وہاں تاریخ بولتی ہے، فطرت معنی دیتی ہے، اور انسان خود ایک کہانی میں بدل جاتا ہے۔ ہر منظر، ہر واقعہ اور ہر گفتگو ایک فکری تجربہ بن جاتی ہے جو مطالعہ کرنے والے کے شعور کو مسلسل متاثر اور متحرک رکھتی ہے۔
مطالعہ سب سے بڑی مسرت ہے، کیونکہ یہی وہ عمل ہے جس میں انسان بیک وقت ماضی، حال اور مستقبل سے جُڑ جاتا ہے۔ یہی مطالعہ ہے جو ایک طرف تاریخی ناانصافیوں پر غصہ پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف اسلاف کی قربانیوں، شہداء کے کردار اور جدوجہد پر فخر کا احساس بیدار کرتا ہے۔ مطالعہ انسان کو شعوری آزادی دیتا ہے، تاکہ وہ نہ صرف ماضی کی سچائیوں کو پہچانے بلکہ موجودہ حالات پر غور کرے اور مستقبل کے لیے رہنمائی حاصل کرے۔
وہ قومیں جو مطالعہ کرتی ہیں، صرف ردِعمل نہیں دیتیں؛ وہ بیانیہ تخلیق کرتی ہیں، فکری سمت متعین کرتی ہیں اور جو قومیں مطالعے سے محروم رہ جاتی ہیں، وہ تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دی جاتی ہیں، اپنے حقیقی تجربے، اپنی کہانی اور اپنی شناخت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ سفر کا رسیا بخوبی جانتا ہے کہ وہ جہاں بھی جائے، ہر شے فطرت کا منظر، ہر لمحہ ایک تجربہ اور ہر مقام ایک کہانی بن جاتی ہے، مگر یہ بصیرت اور گہرائی صرف مطالعے سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ علم اور مطالعہ وہ عدسہ ہیں جس سے دنیا کو، انسانی تجربے کو اور کائنات کی پیچیدگیوں کو سمجھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کسی قدیم مصنف کی یہ خواہش کہ وہ دس برس صرف کتابوں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے، اور ہوانگ چی کا کہنا کہ مطالعے کے لیے انسان کو تین سو برس کی عمر درکار ہے، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ علم انسانی زندگی سے ہمیشہ بڑا اور وسیع تر رہا ہے۔
خاموش رات میں تنہا بیٹھ کر چاند کو دل کے آلام سنانا، یا تنہائی میں کتابوں کے ساتھ گزرے لمحات، یہی وہ لمحے ہیں جہاں انسان اپنی ذات، اپنی تاریخ اور اپنی کائنات سے مکالمہ کرتا ہے۔ یہ لمحے ذہنی سکون، فکری غور و فکر اور روحانی اتصال کا دروازہ کھولتے ہیں، جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑتے ہیں اور فرد اپنے وجود کے معنی دریافت کرتا ہے۔ یہی وہ پل ہیں جب انسان اپنے جذبات، یادوں اور تجربات کو شعوری شکل دیتا ہے اور فکری آزادی کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔
مطالعہ انسان کو نہ صرف علمی طاقت عطا کرتا ہے بلکہ اسے زندگی کے فکری، اخلاقی اور روحانی پہلوؤں سے بھی روشناس کراتا ہے۔ یہی زندگی ہے، جو پڑھنے والے کو حقیقت اور تخیل، دنیا اور خود کے درمیان ایک مستحکم ربط عطا کرتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو نہ صرف اپنی تاریخ اور ثقافت کا شعور دیتا ہے بلکہ اسے مستقبل کی تخلیق اور سمجھ کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔اصل مسئلہ نہ گلوبلائزیشن ہے اور نہ ٹیکنالوجی، بلکہ اعتدال کا فقدان ہے۔ جب سہولت مقصد بن جائے اور آلہ آقا، تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ہمیں ڈیجیٹل سہولتوں کو اپنی زندگی کا غلام بنانے کے بجائے اپنا خادم بنانا ہوگا۔ اسکرین کے ساتھ تعلق ناگزیر ہے، مگر انسانی رشتوں، فکری گہرائی اور فطرت سے تعلق کی قیمت پر نہیں۔ ٹیکنالوجی کو شعور کے تابع کرنا ہی اصل ترقی ہے، ورنہ ترقی محض رفتار بن کر انسان کو اپنی ہی ذات سے دور لے جاتی ہے۔
ڈیجیٹل عہد میں بقا کا راستہ انکار نہیں بلکہ شعوری انتخاب ہے۔ کتاب، فطرت، خاموشی اور فکر کو دوبارہ اپنی زندگی میں مرکزی حیثیت دینا ایک انقلابی عمل ہے۔ جو فرد اور جو قوم مطالعے سے جُڑ جاتی ہے، وہ اسکرین کے شور میں بھی اپنی آواز محفوظ رکھتی ہے۔ حقیقی آزادی وہی ہے جہاں انسان ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہو، مگر ٹیکنالوجی انسان کو استعمال نہ کر رہی ہو۔
گلوبلائزیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بلاشبہ انسانی ترقی کے طاقتور ترین اوزار ہیں۔ انہوں نے علم، مواصلات، سیاست اور معیشت کے ڈھانچوں کو اس شدت سے بدل دیا ہے کہ انسانی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں، معلومات برق رفتاری سے گردش کر رہی ہیں، اور دنیا ایک ایسے نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں فرد بیک وقت مقامی بھی ہے اور عالمی بھی۔ مگر تاریخ اور فلسفہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت جب شعور، اخلاق اور سماجی ذمہ داری سے عاری ہو جائے تو وہ ترقی کے بجائے زوال کو جنم دیتی ہے۔ یہی اصول ڈیجیٹل عہد پر بھی پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے انسان کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی ہیں، مگر اس کے غیر متوازن استعمال نے ایک نئی نوعیت کی تنہائی (Digital Alienation) کو بھی جنم دیا ہے۔ بظاہر انسان زیادہ مربوط نظر آتا ہے، مگر اندرونی طور پر وہ زیادہ منقسم، زیادہ منتشر اور زیادہ بے قرار ہو چکا ہے۔ یہ تضاد اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اس کے استعمال میں شعوری رہنمائی اور اخلاقی نظم کی کمی ہے۔
جب ڈیجیٹل رفتار انسانی فہم سے آگے نکل جائے تو رشتہ، روایت اور شناخت کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ اگر جدید دنیا سے جڑنے کا مطلب اپنی تاریخی یادداشت، سماجی رشتوں اور ثقافتی علامتوں سے کٹ جانا ہو، تو ایسی ترقی محض ظاہری ہوگی، داخلی نہیں۔سائنس یہ واضح کرتی ہے کہ صحت مند انسانی سماج وہی ہوتا ہے جو تکنیکی ترقی اور اخلاقی توازن کے درمیان ہم آہنگی قائم رکھے۔ سماجی رشتے، خاندانی نظام، کمیونٹی کی وابستگی اور ثقافتی تسلسل محض جذباتی اقدار نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور اجتماعی استحکام کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جدید دنیا سے جڑتے ہوئے اپنی انسانی اور قومی اقدار کو مرکزیت دیں، نہ کہ انہیں حاشیے پر دھکیل دیں۔ ٹیکنالوجی کو ثقافت کے تابع ہونا چاہیے، ثقافت کو ٹیکنالوجی کے تابع نہیں۔ یہی وہ فکری اصول ہے جو ڈیجیٹل طاقت کو انسانی وقار، سماجی ذمہ داری اور اجتماعی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتا ہے۔ ایک باخبر معاشرہ وہ نہیں جو صرف معلومات سے بھرا ہو، بلکہ وہ ہے جو معلومات کو معنی، اخلاق اور مقصد عطا کر سکے۔یہ توازن ہی ایک صحت مند، مربوط اور باوقار انسانی سماج کی بنیاد بن سکتا ہےایسا سماج جو عالمی سطح پر جڑا ہوا ہو، مگر اپنی زمینی روٹس سے کٹا ہوا نہ ہو؛ جو جدید ہو، مگر اپنی تاریخ سے کٹا ہوا نہ ہو؛ جو ڈیجیٹل طاقت استعمال کرتا ہو، مگر اس کے سامنے سرنگوں نہ ہو۔ یہی توازن اکیسویں صدی کے انسان کے لیے سب سے بڑا فکری اور سیاسی چیلنج بھی ہے اور سب سے بڑی امید بھی۔
