تربت میں خواتین سمیت چار افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ کا احتجاج جاری

کیچ کے علاقے تجابان میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ شدید سردی اور نامساعد موسمی حالات کے باوجود خواتین، بزرگ اور بچے سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں، جس کے باعث ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔

لاپتہ افراد میں ہانی بلوچ، خیر ء النسا، فرید اعجاز اور مجاہد دلوش شامل ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق ہانی بلوچ اور خیرء النسا کو حب چوکی سے جبکہ فرید اعجاز اور مجاہد دلوش کو تجابان، کیچ سے پاکستانی فوج نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔

مظاہرین نے تجابان کے علاقے کرکی کے قریب سی پیک روڈ کو بلاک کر رکھا ہے اور اپنے پیاروں کی باحفاظت اور فوری بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دھرنے میں شریک خواتین کا کہنا ہے کہ جب تک چاروں افراد کو بازیاب نہیں کرایا جاتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جبری گمشدگیاں اور بیانیاتی قبضہ بطور نوآبادیاتی ہتھیار !

ہفتہ جنوری 3 , 2026
تحریر۔ رامین بلوچ استعمار (قابض) محض مقبوضہ قوم کی زمین، وسائل اور جغرافیے پر ہی قبضہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے ذہن، سوچ اور شعور کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ قبضہ صرف عسکری یا جسمانی نوعیت کا نہیں ہوتا، بلکہ گہرے طور پر بیانیاتی (Discursive) اور […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ