
بلوچستان کے ضلع ہرنائی سے گزشتہ روز برآمد ہونے والی چار افراد کی لاشوں میں سے تین کی شناخت ہوگئی ہے، جب کہ ایک لاش کی شناخت تاحال نہ ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق یہ لاشیں ہرنائی سے تقریباً 22 کلومیٹر دور زندہ پیر کے قریب سے ملی تھیں۔ تمام مقتولین کے جسموں پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں، جس سے قتل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شناخت ہونے والے مقتولین میں ایک کی شناخت جمعہ خان چھلگری مری ولد کیچو خان کے نام سے ہوئی ہے، جو کوریاک سپن تنگی، ضلع ہرنائی کا رہائشی تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق جمعہ خان کو ایک سال قبل ہرنائی بازار سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد وہ جبری طور پر لاپتہ تھا۔
دیگر دو مقتولین کی شناخت نور محمد، سکنہ بابر کچ کوٹ منڈئی ضلع سبی، اور محمد رسول کے نام سے ہوئی ہے۔ تاہم نور محمد اور محمد رسول کے حوالے سے اب تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا وہ پہلے سے جبری طور پر لاپتہ تھے یا نہیں۔
مقامی ذرائع اور لواحقین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چاروں افراد کو پہلے حراست میں لے کر قتل کیا گیا اور بعد ازاں ان کی لاشیں ویران علاقے میں پھینک دی گئیں، جیسا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
