
بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں ریکوڈک اور سیندک پروجیکٹس کے استحصالی نظام کے خلاف “سدو آپریشنل بٹالین (سوب)” کے تحت ہونے والے عسکری آپریشن میں وطن کی دفاع میں شہید ہونے والے سرمچاروں کی تصاویر میڈیا کو جاری کر دیں۔
بی ایل ایف کے خصوصی دستے “سدو آپریشنل بٹالین” کے سرمچاروں نے 30 نومبر کی رات 8:19 بجے نوکنڈی میں پاکستانی فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر جند ندر حملہ کیا۔ اس حملے میں زرینہ رفیق نے بارود سے بھری گاڑی کی مدد سے فدائی حملہ کیا، جس کے بعد دیگر سرمچاروں نے کیمپ میں داخل ہو کر سیندک اور ریکوڈک میں کان کنی کے استحصالی منصوبوں کے غیر ملکی انجینئرز کے دفاتر اور رہائشی کمپاؤنڈز پر قبضہ کر لیا۔
بی ایل ایف نے ان عظیم شہداء کی تصاویر جاری کیں اور ان کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ بی ایل ایف سدو آپریشنل بٹالین کے ان عظیم سرمچاروں آصف بلوچ عرف خالد بلوچ، زرینہ رفیق عرف ترانگ ماھو، نبیل احمد عرف استاد عادل بلوچ، میر جان میرل عرف جانان بلوچ، عنایت ساحل عرف میجر گہرام بلوچ اور غلام جان بلوچ عرف استال بلوچ کو سرخ سلام پیش کرتی ہے جنہیں نے اس خصوصی آپریشن کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا اور قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنی جانوں کا تاریخ ساز نذرانہ دیا۔
بی ایل ایف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان شہداء کی قربانیاں بلوچ قوم کے لیے جذبہ حریت، جدوجہدِ مسلسل اور استحصالی جبر کے خلاف مزاحمت کی روشن علامت ہیں۔ ان کی قربانیاں بلوچ قومی شعور کے لیے ہمیشہ ایک قوتِ محرکہ بنی رہیں گی، اور ان کے افکار و قربانیاں قومی تاریخ کا حصہ بن کر زندہ رہیں گی۔
یاد رہے کہ بی ایل ایف کے مذکورہ خصوصی دستے نے چھتیس گھنٹوں تک دشمن کی فورسز کے ساتھ دلیری اور اعلیٰ فوجی مہارت کے ساتھ لڑتے ہوئے سیندک اور ریکوڈک منصوبوں کے متعدد غیر ملکی انجینئرز کو یرغمال بنایا تھا۔
نوکنڈی واقعہ کے حوالے سے پاکستانی میڈیا اور آئی ایس پی آر کی جانب سے ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس کامیاب آپریشن پر سدو آپریشنل بٹالین کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد آپریشن کی تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
