
پاکستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز نے خاتون سمیت تین افراد کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے، جس پر ان کے اہل خانہ ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
خضدار شہر سے تعلق رکھنے والی فرزانہ بنت محمد بخش زہری کو گزشتہ شب پاکستانی فورسز (سی ٹی ڈی) نے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کر دیا ہے۔ فرزانہ کی گمشدگی نے علاقے میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے اور ان کے اہل خانہ نے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی کے علاقے لیاری سے نبیل بلوچ، جو کہ ایک سیکیورٹی گارڈ ہیں 29 نومبر 2025 کو پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہوئے، نبیل کے اہل خانہ نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ نبیل ایک بے گناہ شہری ہیں، جنہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔
پاکستانی فورسز نے 3 دسمبر 2025 کو گوادر کے علاقے پسنی میں ایک اور نوجوان کاسم بلوچ، جو کہ ایک مچھلی گیر ہیں، کو حراست میں لے لیا ہے، کاسم، جو کہ مچھلی کا شکار کرنے سمندر گئے تھے، پسنی کے بازار میں ہسپتال کے قریب سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہوئے۔ ان کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ کاسم بے گناہ تھا اور اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔
