بلوچ نسل کشی "اندافتا دو آن”

تحریر: فریدہ بلوچ
زرمبش مضمون

بلوچستان میں ریاست کے ادارے بلوچ نسل کشی کو پچھلے اٹھتر سالوں سے کبھی تندہی، کبھی مدہم، مگر گزشتہ دو دہائیوں سے بڑی بے رحمی اور سفاکانہ انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر ریاستی اداروں کے اپنے اندرونی خلفشار اور کشمکش کی وجہ سے کبھی تھوڑی کمی آتی ہے تو ان کے اندر کے معاملات سدھرنے کے بعد ظلم و بربریت اسی نقطے سے دوبارہ شروع کی جاتی ہے جہاں پر چھوڑا گیا تھا۔ اس طرح ایک سرزمین کے مالکوں کو ان کے اپنے وطن کے اندر ایک طرح سے بڑے زندان میں ڈال دیا گیا ہے، بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ بلوچستان کو ایک مقتل گاہ بنا دیا گیا ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ ریاستی بربریت کو منظم طریقے سے بلوچ قوم کے خلاف رائج رکھنے والے یہ تمام ریاستی ادارے نہ ہی اپنے انصاف و انسانیت کے نام نہاد ملکی اداروں کو جوابدہ ہیں اور نہ ہی عالمی عدالتوں میں خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔ بلوچ نسل کشی کے اس ظالمانہ عمل میں ان اداروں کی طرف سے کسی کو بھی استثنا حاصل نہیں ہے۔ وہ جب ان علاقوں میں داخل ہوتے ہیں تو بچے، بوڑھے، خواتین، الغرض ہر ایک کو گولیوں اور بارود کا نشانہ بناتے چلے جاتے ہیں۔ جو بلوچ ہے، چاہے وہ ایک ماہ یا سال کا شیرخوار بچہ ہو یا ایک بزرگ بلوچ مرد یا عورت، اسے نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرتے۔

یوں تو پورے بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ عوام کو فتح کرنے کے لیے اپنی پوری ریاستی طاقت استعمال کرتے ہوئے گاؤں کے گاؤں ملیامیٹ کر دینے کی خبریں آتی ہیں، مگر پچھلے دو ہفتوں کے دوران زہری میں پاکستان آرمی نے ظلم و بربریت کی حدیں پار کرتے ہوئے خواتین اور بچوں پر جہازوں سے بمباری اور ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی، جس کے زد میں آ کر خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ ان بچوں کا قصور یہ ہے کہ وہ بلوچ قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور بلوچ سرزمین پر ان کا جنم ہوا۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ بلوچ نسل کشی ہے۔ جب بے بنیاد اور کھوکھلی ریاستیں اپنے مقبوضہ علاقوں میں بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو توپوں اور بمباری کے نشانے پر رکھیں تو اسے نسل کشی کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔

ریاست کے پاس اپنے اس فوجی یلغار اور قتل و غارت گری کے لیے کوئی جواز نہیں ہے۔ وہ بچے جو ابھی تھوڑی دیر پہلے کھیل رہے تھے، جنگی جہازوں کے بے رحم ہتھیاروں نے ان کی زندگیاں چھین لیں۔ اور خواتین جو نزدیکی گاؤں کی طرف جا رہی تھیں، ان پر بھی گولے برسا کر انھیں شہید کر دیا گیا۔ ان بچوں اور خواتین کی شہادت سوشل میڈیا کی وجہ سے سامنے آئی۔ ظلم و بربریت کے ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں جن تک کسی کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر رپورٹ نہیں ہوئے اور میڈیا میں جگہ نہ پا سکے۔ وگرنہ اسلام کا لبادہ اوڑھنے والی اس ریاست کے فوجیوں نے ظلم و بربریت کے وہ اودھم مچائے کہ سفاکانہ یزیدی جارحیت اس کے سامنے کچھ نہیں۔

بلوچ نسل کشی کی اس مزموم اور ننگی جارحیت کے دوران زہری میں آبادی کے درمیان ٹینک کھڑے کرکے پہاڑوں پر گولے برسائے گئے اور ہر گولے کی گونج کے بعد نعرے لگائے گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ انھیں بلوچ نسل کشی پر مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ یہ ننگی فوجی جارحیت فقط فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات پورے علاقے کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی حالت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ ایک مستند اور مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک بلوچ قومی سوال کو ایڈریس نہیں کیا جاتا، اس طرح کے فوجی آپریشن بلوچستان میں ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ زہری جیسے فوجی آپریشنز کی ذمہ دار یہ موجودہ حکومت نہیں بلکہ پوری ریاستی مشینری ہے جس نے اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کے لیے ہر دور میں مختلف بیانیے تشکیل دے کر بلوچ نسل کشی کی ہے۔

حکومت چاہے جس کی بھی ہو، تقسیمِ ہندوستان اور ریاست بلوچستان کے جبری الحاق کے خالق (جو خود پتہ نہیں کس انگریز کے ڈائننگ ٹیبل پر تخلیق ہوئی) مسلم لیگ ہو یا سوشلسٹ نظریات کا راگ آلاپنے والی پیپلز پارٹی، جنرل ایوب کی فنکشنل لیگ ہو یا بلے کے نشان والی پی ٹی آئی یہ سب کے سب ریاستی مشینری کے آزمودہ پرزوں کی طرح جوں ہی ریاستی مشینری میں فٹ بیٹھتے ہیں تو ان کا منشور اور پالیسی پسِ پردہ چلی جاتی ہے اور ٹینکوں، توپوں، ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں کو آگے کیا جاتا ہے جو بلوچ سرزمین پر چڑھ دوڑتے ہیں اور نعرۂ تکبیر لگا کر بلوچ نسل کشی کو اپنا ایمانی فریضہ گردانتے ہیں۔

یہ چار بچے اور خواتین زہری میں فوجی آپریشن کے دوران جب شہید ہوئے تو یہ ریاستی بیانیہ پھیلایا گیا کہ مزاحمت کاروں پر بمباری کی گئی اور اتنے مارے گئے۔ غالباً سال 2014 میں گزگ قلات میں فوجی ہیلی کاپٹروں نے ایک گدان پر شیلنگ کی جس میں پانچ خواتین شہید ہوئیں۔ اس دوران چونکہ یہ واقعہ میڈیا میں جگہ نہیں پا سکا، اس لیے ریاست نے فیس سیونگ کے لیے کوئی بیان دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

پچھلے سال جوہان میں دو معذور بھائیوں کو فوج نے گھر سے نکال کر چند قدم دور لے جا کر گولیوں سے چھلنی کر دیا، اور ان کی ماں ان کے لاشوں پر بین کرتی رہی تا آنکہ نزدیکی آبادی کے لوگ انھیں اٹھانے اور دفن کرنے پہنچے۔ تصاویر بھی میڈیا پر آ گئیں۔ 80 کی دہائی میں دلبند کے مقام پر فوجیوں نے مرد و خواتین کو قطار میں کھڑا کر کے گولیاں ماریں۔ مری قبائل کے علاقوں میں ایسے بہت سارے واقعات رپورٹ ہوئے، حتیٰ کہ ہیلی کاپٹروں سے قیدیوں کو نیچے گرایا گیا۔ ان شہیدوں کے جسم بھی دفن کے لیے اکٹھے نہیں کیے جا سکے اور ریاست جھوٹے بیانیے دے کر گلو خلاصی کرتی رہی اور حکومتیں بدلتی رہیں۔

کہنے کا مقصد یہ کہ فوجی آپریشنز بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہیں۔ ریاست کی آنکھیں بلوچ سرزمین کے ساحل اور وسائل پر لگی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے اس کی تزویراتی اہمیت قائم ہے۔ اسی سوچ کی بنا پر وہ بلوچ آزادی، خودمختاری اور وسائل پر ملکیت کی سوچ کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے بلوچ نسل کشی کر رہی ہے اور اس نسل کشی کو مختلف بیانیوں کے ذریعے چھپاتے ہوئے عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ اسی بلوچ نسل کشی پر مبنی ریاستی بیانیے کو لاشعوری طور پر ہم بھی قبول کر چکے ہیں۔

میں نے بھی اپنی اس تحریر میں ایسے واقعات بیان کیے جن میں ریاستی فورسز کی بمباری سے بچے اور خواتین شہید ہوئے۔ گویا لاشعوری طور پر میں قبول کر چکی ہوں کہ مردوں کو یا نہتے آوازوں کو جو ریاستی بیانیے کے سامنے مزاحم ہیں، ریاست مسلح دکھا کر شہید کرے تو صحیح ہے۔ اگر ہم اس طرح ریاستی بیانیے کو بالواسطہ یا غیر شعوری طور پر تسلیم کرتے جائیں تو ریاست اسی طرح ہمیں محدود اور علاقائی طور پر مختلف فوجی آپریشنز کے نام پر مارتا جائے گا اور بلوچ نسل کشی کو مختلف عنوانوں سے چھپاتا جائے گا۔

یہ تحریر اس حد تک پہنچی تھی کہ سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو نظر سے گزری کہ اوتھل چیک پوسٹ پر چیکنگ میں وقت لگنے سے ایک بیمار بچہ اپنی ماں کی گود میں دم توڑ گیا، جسے علاج کے لیے کراچی لے جایا جا رہا تھا۔ مردہ بچے کے ساتھ بیٹھی خاتون سے کسی نے پوچھا کہ بچہ کیسے مرا؟ خاتون نے کوسٹ گارڈ کی طرف اشارہ کر کے کہا، "اندافتا دو آن” مطلب، انھی کے ہاتھوں۔ یہ منظم نسل کشی کا بدنما عکس نہیں تو اور کیا ہے؟

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

لندن میں مقیم بلوچ ڈائسپورا کا احتجاج اور پاکستانی میڈیا

ہفتہ اکتوبر 25 , 2025
تحریر: کامریڈ قاضیزرمبش مضمون پاکستانی ریاست نے بلوچستان کو جبراً اپنے قبضے میں لے رکھا ہے اور وہاں کے لوگوں کو لاپتہ، شہید اور نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس ظلم و ستم کو دنیا سے چھپانے کے لیے پورے بلوچستان میں انٹرنیٹ بند کیا گیا ہے […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ