
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تربت میں والدین کے سامنے حیات بلوچ کو گولیاں مار کر قتل کرنے والے ایف سی اہلکار کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اقلیتی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ماورائے عدالت قتل آئین اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ایف سی اہلکار کا جرم “بزدلانہ اور بہیمانہ” ہے اور عوامی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار کا شہری کا قاتل بن جانا ناقابل قبول ہے اور ایسے مجرم کو سب سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔
عدالت کے مطابق، یونیورسٹی کے طالبعلم حیات کو حراست میں لے کر اس کے والدین کے سامنے گھسیٹ کر فائرنگ کی گئی۔ ملزم شادی اللہ نے مقتول کی پیٹھ میں 8 گولیاں ماریں، جبکہ والدین کی دہائیاں سننے کے باوجود فائرنگ جاری رکھی گئی۔
سپریم کورٹ نے یاد دلایا کہ ماورائے عدالت حراستی قتل کو فَساد فی الارض قرار دیا جا چکا ہے اور ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی سزائے موت کی توثیق برقرار رکھی جاتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے واقعات میں نرمی یا ہمدردی معاشرے میں لاقانونیت کو فروغ دیتی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملزم کا دعویٰ کہ دھماکے میں ساتھی زخمی ہونے پر غصہ آیا، قابل قبول نہیں، اور فرانزک شواہد اور اعترافی بیان سے جرم ثابت ہوا۔
سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اکثریتی فیصلہ دیتے ہوئے ملزم کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا، لیکن جسٹس اطہر من اللہ نے اقلیتی فیصلہ جاری کر کے سزائے موت برقرار رکھنے کی مخالفت کی۔
