
چین اور امریکہ آج آسیان سربراہی اجلاس کے موقع پر اعلیٰ سطحی مذاکرات کے امکانات کے ساتھ عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اجلاس میں ایشیا پیسفک کے دیگر اہم رہنما بھی شریک ہوں گےاور توقع ہے کہ تجارتی، ٹیکنالوجی، اور دفاعی مسائل پر گفت و شنید ہوگی۔
چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون کو ترجیح دیتا ہےمگر امریکہ کے بعض تجارتی اقدامات اور ٹیکنالوجی پابندیوں پر تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔ امریکہ نے کہا کہ وہ خطے میں امن اور عالمی تجارت کے اصولوں کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔
گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جس میں ٹیکنالوجی، تجارتی پابندیاں اور فوجی مقابلہ شامل ہیں۔ آسیان سمٹ ان اختلافات کے باوجود خطے میں اقتصادی اور سکیورٹی امور پر گفت و شنید کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اجلاس میں تجارتی پابندیوں اور سپلائی چین کی حدود، ٹیکنالوجی اور ہائی ٹیک شعبوں میں تعاون یا کشیدگی، خطے میں فوجی تناؤ کم کرنے اور بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت کے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ اس کے علاوہ علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں خطے میں تجارتی راستے مستحکم ہوں گے اور سپلائی چین کے دباؤ میں کمی آئے گی، جبکہ ناکامی یا کشیدگی میں اضافہ ہونے پر چین اور امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری بڑھے گی اور عالمی تجارت اور خطے کی سکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
