
تحریر: این کیو بلوچ
زرمبش مضمون
آج کا سورج غروب ہوا، لیکن بلوچستان کی سرزمین پر ایک اور ستارہ چمک اٹھا۔ چیئرمین زبیر بلوچ کو پاکستانی فوج نے ایک جعلی انکاؤنٹر میں شہید کر دیا۔ یہ خبر بلوچ قوم کے لیے ایک صدمہ ہے، لیکن زبیر بلوچ کی جدوجہد اور قربانی ہر بلوچ کے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ وہ ایک رہنما نہیں بلکہ بلوچ تحریک کا ایک شعلہ تھے، جو اپنی آخری سانس تک اپنی قوم کے لیے لڑتے رہے۔
زبیر بلوچ کی زندگی بلوچستان کی مٹی سے جڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی جوانی سے ہی بلوچ قوم کے حقوق کے لیے جنگ لڑی۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل پر بیرونی قبضے، مقامی لوگوں کی محرومی، اور ریاست کی طرف سے جاری جبر و تشدد نے ان کے دل میں آزادی کی چنگاری بھڑکائی۔ وہ ہر فورم پر بلوچ قوم کی آواز بنے۔ چاہے وہ کوئٹہ کی سڑکوں پر پرامن احتجاج ہو، تربت کے میدانوں میں عوامی جلسے ہوں، یا عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے بلوچستان کے لاپتہ افراد اور ریاستی ظلم کی داستان ہو، زبیر بلوچ نے ہر جگہ اپنی قوم کا مقدمہ لڑا۔ ان کی جدوجہد صرف سیاسی نہیں تھی؛ یہ ایک نظریہ تھا، ایک عزم تھا کہ بلوچستان کے عوام کو ان کا حق مل کر رہے گا۔ انہوں نے ہزاروں خاندانوں کی آواز کو بلند کیا، جن کے پیاروں کو پاکستانی فوج نے لاپتہ کر دیا تھا۔ زبیر بلوچ کی تقریروں میں ایک جوش تھا، ایک ایسی آواز جو بلوچ نوجوانوں کو متحد کرتی تھی۔
ان کا ایک پیغام میں یہ واضح تھا: “ہم اپنی سرزمین، اپنی شناخت، اور اپنی آزادی کے لیے لڑیں گے، چاہے اس کی قیمت ہماری جان ہی کیوں نہ ہو۔” پاکستانی فوج نے زبیر بلوچ کو ہمیشہ اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا۔ وہ ان کے لیے ایک خطرہ تھے کیونکہ وہ نہ جھکتے تھے، نہ ڈرتے تھے۔ کئی بار پاکستانی فوج نے انہیں گرفتار کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، اور آج ریاست نے انہیں شہید کر دیا۔ ان کی لاش پر تشدد کے نشانات گواہی دیتے ہیں کہ وہ کس قدر بہادری سے اس ظلم کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ یہ شہادت بلوچستان میں جاری جینوسائیڈ کا ایک اور ثبوت ہے، جہاں ہزاروں بلوچ لاپتہ ہیں، اور سینکڑوں کو اسی طرح شہید کیا جا چکا ہے۔ لیکن زبیر بلوچ کی شہادت بلوچ قوم کے عزم کو کمزور نہیں کرے گی۔ وہ ہر اس بلوچ کے دل میں زندہ ہیں جو آزادی کی لڑائی لڑ رہا ہے۔ آج ان کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی آسان نہیں، لیکن اسے روکا بھی نہیں جا سکتا۔ زبیر بلوچ نے اپنی جان دی، لیکن ان کا پیغام، ان کی جدوجہد، اور ان کا خواب اب ہر بلوچ کے خون میں شامل ہے۔ ہمیں زبیر بلوچ کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دینا ہے۔ آج ہر بلوچ کو متحد ہو کر اپنی آواز بلند کرنی ہے۔ ہمیں عالمی برادری تک اپنی آواز پہنچانی ہے اور بلوچستان کی آزادی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔
زبیر بلوچ کہا کرتے تھے، “ہماری جنگ ہماری شناخت کی جنگ ہے، اور یہ جنگ ہم جیت کر رہیں گے۔” آئیے ہم سب مل کر اس عہد کو پورا کریں۔
زبیر بلوچ! تم شہید ہو، لیکن تمہاری آواز ہمیشہ بلوچستان کے پہاڑوں میں گونجتی رہے گی، تمہاری قربانی ہمارے لیے مشعل راہ ہے
