
اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل اور ان کے بیٹے کے قتل سے متعلق خبر کی تردید کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے ایک ویڈیو بیان میں واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبر بے بنیاد ہے۔
ڈی سی زیارت کے مطابق، وہ پولیس حکام کے ہمراہ اس وقت کوست کے مرکزی قبرستان میں موجود تھے جہاں ایک قبر کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ قبر محمد اللہ سمالانی نامی ایک شخص کے لیے کھودی جا رہی ہے، جسے کاروباری لین دین اور کوئلے کے معاملات کے باعث قتل کیا گیا تھا۔
ڈی سی زیارت نے بتایا کہ موقع پر افواہیں پھیلائی گئیں کہ یہاں اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل کی لاش موجود ہے، تاہم حقائق اس کے برعکس نکلے۔ “وہاں صرف ایک ہی لاش موجود تھی جسے ہم نے ریکارڈ کر کے یہاں پہنچایا ہے، اور اس کی تدفین کے انتظامات جاری ہیں،” انہوں نے کہا۔
مزید یہ بھی بتایا گیا کہ کوست، زردالو اور ٹکری کے علاقوں میں کسی اور لاش کی موجودگی کی اطلاع درست ثابت نہیں ہوئی۔
