
کراچی پریس کلب کے باہر جبری گمشدگیوں کے خلاف لگایا گیا احتجاجی کیمپ اتوار کو اپنے 34ویں روز میں داخل ہوگیا۔ لاپتہ نوجوان زاہد علی بلوچ کے والد عبدالحمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جواں سال بیٹا 17 جولائی 2025 کی شام لیاری سے لاپتہ کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، سادہ لباس اہلکاروں نے زاہد کو اُس وقت زبردستی گاڑی میں بٹھایا جب وہ رکشے پر سواری کا انتظار کر رہا تھا، جس کے بعد سے اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
عبدالحمید بلوچ نے بتایا کہ زاہد نے حال ہی میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز سے گریجویشن مکمل کیا تھا اور گھریلو اخراجات کے لیے محنت مزدوری کرتے ہوئے رکشہ چلاتا تھا۔ انہوں نے رنجیدہ لہجے میں کہا:
“میرا بیٹا محنت کش اور بے ضرر نوجوان ہے، جو اپنے گھر کا سہارا بنا ہوا تھا۔ لیکن آج وہ ہم سے چھین لیا گیا ہے۔ اگر اُس پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے ہی جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں اور بیٹے کی جبری گمشدگی نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا ہے۔ ان کے مطابق، زاہد کی والدہ بیٹے کی چیزوں کو دیکھ کر روتی رہتی ہیں اور روزانہ دروازے پر نظریں جمائے اس کی واپسی کی منتظر رہتی ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، کراچی کے مختلف علاقوں سے متعدد بلوچ نوجوان لاپتہ ہیں، جن میں شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی گمشدگی نے نہ صرف خاندانوں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ مالی مشکلات میں بھی دھکیل دیا ہے۔
عبدالحمید بلوچ نے سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ان کے بیٹے سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا:
“یہ صرف میرا دکھ نہیں بلکہ ہر اُس ماں باپ کا درد ہے جس کا بیٹا اغوا کر کے لاپتہ کیا گیا ہے۔ اگر ہمارے بچوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔”
احتجاجی کیمپ میں شریک دیگر لواحقین نے بھی حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ لاپتہ نوجوانوں کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے تاکہ ان کے گھرانوں کی اذیت ختم ہو سکے۔
