
کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے قائم احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 5924 دن مکمل ہو گئے۔
نشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی رہنما ثناء بلوچ نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اپیل کی کہ وہ اپنے لاپتہ پیاروں کی تفصیلات تنظیم کو فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین ثبوت کے ساتھ خود سامنے نہیں آئیں گے، تب تک تنظیم اس کیس پر قانونی کارروائی کا مطالبہ نہیں کر سکتی اور نہ ہی ملکی یا بین الاقوامی ادارے اس کیس کو اندراج دیتے ہیں۔ نصراللہ بلوچ نے واضح کیا کہ لواحقین کے بغیر کسی کیس کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ لواحقین ثبوت کے ساتھ خود سامنے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
نصراللہ بلوچ نے سیاسی اور طلباء تنظیموں کے ساتھ سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو انسانی بنیادوں پر اجاگر کریں اور لواحقین کو ثبوت کے ساتھ سامنے آنے میں اپنا کردار ادا کریں۔