
زاویان بلوچ
زرمبش مضمون
25 مئی 2025 کی وہ رات، جب بلوچستان کے ایک عظیم فرزند غنی بلوچ کو کوئٹہ سے کراچی جاتے ہوئے خضدار کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک نجی ٹرانسپورٹ سے اتار کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا، آج تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ تین ماہ نہ صرف غنی بلوچ کے خاندان کے لیے بلکہ بلوچ قوم کے لیے بھی ایک لامتناہی کرب اور جدوجہد کا سفر رہے ہیں۔ غنی بلوچ، جن کا نام علم، کتاب اور قومی شعور کے ساتھ جڑا ہوا ہے، آج ایک علامت بن چکے ہیں—ایک ایسی علامت جو ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتی ہے اور بلوچ قوم کی آزادی کے خواب کو روشن رکھتی ہے۔
غنی بلوچ: ایک عظیم انسان
غنی بلوچ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے ایک فعال رہنما تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم کے فروغ اور بلوچ قوم کی سیاسی بیداری کے لیے وقف کر دی تھی۔ شاہ زیب بلوچ ایڈوکیٹ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ غنی بلوچ کی کتابوں سے محبت اور علم کی پیاس ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو تھا۔ وہ نہ صرف خود علم کے متلاشی تھے بلکہ دوسروں کو بھی شعور کی روشنی سے منور کرنے کے خواہشمند تھے۔ ان کی جبری گمشدگی بلوچ قوم کے شعور کو دبانے کی ایک کوشش ہے، لیکن یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
غنی بلوچ کی زندگی ایک ایسی کتاب تھی جس کے ہر صفحے پر مزاحمت، حوصلہ اور قوم پرستی کے رنگ جھلکتے ہیں۔ ان کی جدوجہد محض سیاسی نہیں تھی بلکہ ایک فکری انقلاب کا پیش خیمہ تھی۔ وہ بلوچستان کے اس سماج کی نمائندگی کرتے تھے جو اپنے وسائل، اپنی شناخت اور اپنی آزادی کے لیے لڑ رہا ہے۔
جبری گمشدگی: ایک انسانیت سوز جرم
غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کوئٹہ سے کراچی جانے والی ایک بس سے ہوئی، جب مسلح اہلکاروں نے انہیں خضدار کے قادری ہوٹل کے قریب سے اغوا کیا۔ یہ واقعہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے اس لامتناہی سلسلے کا حصہ ہے جو بلوچ قوم کے لیے ایک زخم بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق، ہزاروں بلوچ نوجوان، طلبا اور سیاسی کارکن اسی طرح ریاستی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ کیے جا چکے ہیں۔ غنی بلوچ کا معاملہ اس حقیقت کی ایک اور تلخ یاد دہانی ہے کہ بلوچستان میں علم، شعور اور مزاحمت کو دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے بھی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جیسے رہنماؤں کے خلاف ریاستی جبر کے حوالے سے۔ غنی بلوچ کی گمشدگی اسی جبر کا ایک حصہ ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بلوچ قوم کے فکری اور سیاسی وجود پر حملہ ہے۔
بلوچستان: ایک جہدکار قوم کی آواز
بلوچستان کی سرزمین صدیوں سے ظلم، استحصال اور جبر کے خلاف مزاحمت کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ غنی بلوچ کی جبری گمشدگی اس سرزمین کے درد کا ایک اور باب ہے۔ لیکن یہ درد محض رنج و غم نہیں، بلکہ ایک ایسی آگ ہے جو بلوچ قوم کے سینوں میں مزاحمت کے شعلوں کو بھڑکاتی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے، اور ان کی جدوجہد نے دنیا بھر میں بلوچستان کے مظلوموں کی آواز کو پہنچایا ہے۔
غنی بلوچ کی گمشدگی کے تین ماہ مکمل ہونے پر بلوچ قوم ایک بار پھر اپنے عزم کو دہراتی ہے کہ وہ نہ جھکے گی، نہ ٹوٹے گی۔
غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کے تین ماہ مکمل ہونے پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ہر لاپتہ بلوچ کی آواز ہمارے دلوں میں گونجتی ہے۔ ہر غنی بلوچ، ہر زاہد بلوچ اور ہر کریمہ بلوچ کی جدوجہد ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ غنی بلوچ کی گمشدگی ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک قوم کے شعور اور مزاحمت کا سوال ہے۔