
تحریر: عزیز سنگھور
زرمبش مضمون
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنماؤں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری دھرنا اپنے 42 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ چھ ہفتوں سے زائد عرصے سے یہ لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ کبھی تیز دھوپ ان پر قہر برساتا ہے تو کبھی موسلادھار بارشیں، لیکن ان کے حوصلے ٹوٹتے نہیں۔ ان کے چہروں پر تھکن ضرور ہے، مگر عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔
اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ اپنے عوام، بالخصوص بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے آگے بڑھیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان اب وہ پرانا بلوچستان نہیں رہا۔ وہاں کے لوگ کئی دور طے کر چکے ہیں۔
اس دھرنے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں شریک افراد مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ خواتین اپنے بیٹوں کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں، بچے اپنے والدوں کے انتظار میں بینرز تھامے کھڑے ہیں، نوجوان اپنی آزادی اور شناخت کے لیے نعرے بلند کر رہے ہیں اور بزرگ مایوسی کے باوجود حوصلہ دکھا رہے ہیں۔ یہ منظر کسی عام احتجاج کا نہیں بلکہ اجتماعی مزاحمت کا ہے۔
اسلام آباد کے دھرنے میں شریک مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک اسیر رہنما رہا نہیں کیے جاتے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اب بلوچستان کے عوام محض وعدوں پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ عملی اقدامات چاہتے ہیں۔
دوسری جانب کراچی پریس کلب کے باہر لاپتا افراد کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ آج 22 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ کیمپ اس بات کی زندہ علامت ہے کہ جبری گمشدگیاں محض بلوچستان تک محدود نہیں رہیں بلکہ شہری سندھ میں بھی ان کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ کا بیان ہر سننے والے کے دل کو دہلا دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
“اگر میرے بیٹے پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن بغیر ثبوت کے غائب کر دینا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔”
اسی طرح سرفراز بلوچ کی والدہ بی بی گلشن بلوچ کا کرب بھی ناقابلِ بیان ہے۔ ان کا بیٹا گھر کا واحد کفیل تھا اور اس کی گمشدگی کے بعد پورا خاندان معاشی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
اور پھر ماری پور کی بزرگ خاتون اماں سبزی بلوچ کا واقعہ۔ ان کے دو بیٹے شیراز اور سیلان 23 مئی 2025 کو مبینہ طور پر سی ٹی ڈی کے ہاتھوں لاپتا ہوئے۔ شیراز شادی شدہ اور اپنی اہلیہ کو ماں بننے کی امید چھوڑ گیا، جبکہ گھر میں کمانے والا کوئی نہ رہا۔ یہ کہانیاں محض ذاتی المیے نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہیں۔
اس وقت حکومت کے سامنے ایک سنہری موقع ہے۔ یہ دھرنا اور یہ احتجاجی کیمپ محض مزاحمت نہیں بلکہ حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے کی ایک کھلی دعوت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکمران اس موقع کو غنیمت جانیں گے یا ایک اور تاریخی غلطی کریں گے؟
یاد رہے کہ سنہ 2023 میں جب تربت سے اسلام آباد تک نوجوان بالاچ بلوچ کے قتل کے خلاف مارچ کیا گیا تو ریاست نے اس پر لاٹھی چارج کیا۔ خواتین پر ڈنڈے برسائے گئے، بچوں کو حراست میں لیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے بلوچستان اور باقی ملک کے درمیان موجود خلیج کو مزید گہرا کر دیا۔ آج بھی بلوچ عوام اس واقعے کو ایک زخم کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
اگر حکومت نے اس بار بھی طاقت کا استعمال کیا یا وقت ضائع کیا تو یہ خلیج ناقابلِ تلافی ہو سکتی ہے۔ بلوچستان کے عوام اب باشعور ہو چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا حق محض احتجاج کرنے کا نہیں بلکہ عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا ہے۔
بلوچستان کے مسئلے کا حل نہ فوجی آپریشن ہے، نہ ڈیتھ اسکواڈز اور نہ ہی جبری گمشدگیاں۔ حل صرف اور صرف مذاکرات اور انصاف پر مبنی پالیسی میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کرے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو وہ عدالتی عمل کے ذریعے سامنے آئے۔ اور اگر وہ بے گناہ ہیں تو انہیں رہا کیا جائے۔
یہی وہ قدم ہے جو بلوچستان اور اسلام آباد کے درمیان پُل کا کام کر سکتا ہے۔ ورنہ یہ دھرنے اور احتجاج مزید شدت اختیار کریں گے، اور یہ شدت صرف ریاستی اداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
اسلام آباد کا دھرنا اور کراچی کا احتجاجی کیمپ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ بلوچستان کا زخم اب چھپایا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں حکومت تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ اگر وہ مذاکرات اور انصاف کا راستہ اپناتی ہے تو شاید وہ بلوچستان کو قریب لا سکے۔ مگر اگر اس موقع کو کھو دیا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ فاصلے مزید بڑھیں گے۔
یہی وقت ہے کہ ریاست سنجیدگی سے سوچے۔ طاقت اور جبر نے کچھ نہیں دیا، اب صرف مکالمہ، انصاف اور اعترافِ حقیقت ہی وہ راستہ ہیں جو اس ملک کو ایک نئے مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔