
پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں آج بروزاتوار کو نیشنل پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنماؤں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے پُرامن احتجاج چالیس ویں دن بھی جاری رہی ۔جہاں اسیران کے لواحقین پریس کانفرنس کی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ ،سمی دین بلوچ ،ماہ زیب بلوچ و دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے کہ وہ ادارے جنہوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہے، جو ہر روز آئین اور قانون کو روندتے ہیں، وہ آزاد ہیں۔ مگر وہ لوگ جو آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ قید میں ڈال دیے گئے ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ پچھلے چالیس دنوں سے ہم اسلام آباد کی سڑکوں پر انصاف کے لیے بیٹھے ہیں۔ ہم کسی ذاتی مفاد یا ذاتی مراعات کے لیے یہاں موجود نہیں ہیں۔ بلکہ ہم اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے، آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اور اس ریاست میں انصاف کی بحالی کے لیے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ احتجاج کسی وقتی واقعے یا کسی ایک شخص کی گرفتاری کے نتیجے میں شروع نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جس کی جڑیں بلوچستان کی کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی محرومیوں، جبر اور جبری گمشدگیوں میں ہیں۔ یہ احتجاج ان تمام ماؤں کی جدوجہد کا تسلسل ہے جن کے بیٹے برسوں سے لاپتہ ہیں۔ یہ احتجاج ان بہنوں کے آنسوؤں کا جواب ہے جو ہر دن اپنے بھائیوں کی راہ تکتی ہیں۔ اور یہ احتجاج ان بچوں کی فریاد ہے جو اپنے والد کی واپسی کے منتظر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات نہ تو اتنے مشکل ہیں کہ مانے نا جاسکے اور نہ ہی غیر آئینی۔ یہ دو انتہائی سادہ مطالبات ہیں۔ پہلا یہ کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، شاجی بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور عمران بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ بلوچستان کے تمام جبری گمشدہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ یہ مطالبات کسی مخصوص گروہ کی خواہش نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہیں۔
نادیہ بلوچ نے کہا کہ پانچ مہینے گزر جانے کے باوجود عدالتیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہ ی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں بار بار ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ رہنما خاموش نہیں رہے ہیں۔ وہ بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں جیسے سنگین مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہ ان کا جرم ہے کہ وہ ریاستی جبر کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج میڈیا اور عدالتیں بھی اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ میڈیا ہمارے جائز اور سیدھے سادھے مطالبات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ وہی میڈیا جو آزاد ہونا چاہیے تھا، وہی میڈیا جو کمزور اور محکوم عوام کی آواز بننا چاہیے تھا، آج وہ حکومتی اداروں کے ایما پر کام کر رہا ہے۔ عدالتوں سے امید تھی کہ وہ مظلوم کو انصاف دیں گی، مگر وہ بار بار ریمانڈ میں توسیع کر کے صرف جبر کو مضبوط کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے کہ وہ ادارے جنہوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہے، جو ہر روز آئین اور قانون کو روندتے ہیں، وہ آزاد ہیں۔ مگر وہ لوگ جو آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ قید میں ڈال دیے گئے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف افسوسناک بلکہ شرمناک بھی ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل ایک بار پھر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کی پیشی تھی۔ یہ تین ماہ کے تھری ایم پی او اور 10,15 اور 20 روز کے تین ریمانڈز کے بعد کی پیشی تھی۔ ہمیں امید تھی کہ عدالت اب انصاف کرے گی اور مزید ریمانڈ نہیں دے گی، لیکن ایک بار پھر ہماری امیدوں کو توڑ دیا گیا اور مزید 15 دن کی ریمانڈ میں توسیع کر دی گئی۔ یہ عمل صرف ہمارے نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر عدالتیں انصاف فراہم نہیں کریں گی، اگر میڈیا حقائق نہیں دکھائے گا، تو پھر اس ملک کے شہری کہاں جائیں گے؟ وہ کس سے رجوع کریں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی کے لیڈران کو سب سے پہلے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا۔ تین ماہ اور پندرہ دن کی غیر قانونی گرفتاری کے بعد انہیں اے ٹی سی کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں تین ایف آئی آرز میں گرفتار کر کے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ مجموعی طور پر 45 دن کے ریمانڈ کے بعد، جب 22 اگست کو ان کی پیشی تھی تو دوبارہ انہی ایف آئی آرز پر ریمانڈ مانگا گیا۔ لیکن ہمارے وکلا نے ریمانڈ نہ دینے پر زور دیا، جس پر عدالت نے ان ایف آئی آرز میں ریمانڈ مسترد کر کے انہیں جوڈیشل کر دیا۔ تاہم پانچ نئی اور بے بنیاد ایف آئی آرز سامنے لاکر بی وائی سی کے لیڈران کو مزید 15 دن کے لیے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان پانچ میں سے دو ایف آئی آرز بالکل عام نوعیت کی ہیں، جن کے لیے ہم نے پچھلے دو مہینوں سے ضمانت کی درخواست دی ہوئی تھی۔ لیکن انہی تھانوں کے افسران گزشتہ دو ماہ سے عدالت میں آکر مختلف بہانے بناتے رہے، اور عدالت کے احکامات کے باوجود تفتیش نہیں کی گئی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پولیس افسران اور سی ٹی ڈی نے نہ صرف ہمیں دھوکے میں رکھا بلکہ عدالت کے ساتھ بھی کھلا مذاق (Abuse of Court) کیا ہے۔
نادیہ بلوچ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اس کے نتائج کے سب سے پہلے شکار ہم بلوچ بنے ہیں۔ اس ترمیم کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی کو اس حد تک بااختیار بنا دیا گیا ہے کہ وہ عام مقدمات کو بھی اے ٹی سی میں منتقل کر سکتے ہیں۔ اور اسی قانون کے تحت وہ پرامن آوازوں کو مجرمانہ رنگ دے کر انہیں دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھی پُر امن سیاسی جُہدکار اور سیاسی قیدی ہیں مگر ایک منظم منصوبے کے تحت انہیں دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ بلوچ قوم کی حقیقی آواز کو دبایا جا سکے۔
بلوچ لواحقین کا کہنا تھا کہ ہم اپنے احتجاج کو پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ جبر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، یہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ ہم پر یقین ہے کہ ایک دن یہ اندھے، گونگے اور بہرے ادارے ہماری آواز سننے پر مجبور ہوں گے۔ ایک دن آئے گا جب یہ ظلم ٹوٹے گا اور انصاف غالب آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم پورے ملک کے عوام، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔ یہ احتجاج صرف بلوچ عوام کا احتجاج نہیں ہے۔ یہ احتجاج انصاف کا احتجاج ہے۔ یہ انسانی وقار اور حق کی جنگ ہے۔ اور اس جنگ کا ساتھ دینا ہم سب پر فرض ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل یہ جبر کسی اور دروازے پر دستک دے گا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آخر میں ہم بلوچ قوم کو کہنا چاہتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اپنے گھروں سے نکلے اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف بھرپور انداز میں مزاحمت کرے اور اس جابر ریاست کو یہ باور کرائے کہ بلوچ قوم ان نسل کش پالیسیوں کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرتی رہے گی۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ جو بھی ظلم و جبر کے خلاف خاموش رہے گا وہ مزید ظلم کی چکی میں پستا رہے گا۔ ہم اس پریس کانفرنس کے توسط سے یہ واضح کرتے ہیں کہ کراچی، شال اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں فیک انکاؤنٹرز اور جبری گمشدگیوں کے خلاف سراپا احتجاج اسیران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اور دیگر لواحقین کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ریاستی جبر کے خلاف نکلیں اور مزاحمت کا راستہ اپنائیں، کیونکہ قانون، عدالت اور انصاف کے دروازے بلوچ قوم کے لیے اب بند کر دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا احتجاج پرامن ہے، پرامن رہے گا اور ہم اس جگہ سے اس وقت تک نہیں اٹھیں گے جب تک ہمارے پیارے رہا نہیں کیے جاتے۔ ہم اپنے مطالبات پر قائم ہیں، ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔