
تحریر: رامین بلوچ
زرمبش مضمون
گزشتہ دنوں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے پاکستانی نوآبادیاتی عدالت میں پیشی کے دوران گل زادی بلوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:“عسکری عدالتوں میں وظیفے کام نہیں کرتے بلکہ ڈالر کام کرتا ہے۔”یہ مختصر سا تنقیدی جملہ محض ایک احتجاجی ردِعمل نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی، نظریاتی اور انقلابی بیانیہ ہے۔ یہ بیانیہ نہ صرف پاکستان کے عدالتی و عسکری نظام کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ نوآبادیاتی تسلط کے پورے فطری و مادی ڈھانچے کو بھی عیاں کرتا ہے۔ پاکستان میں عسکری عدالتیں بظاہر قانون کے لبادے میں قائم ہیں، مگر ان کی بنیاد انصاف نہیں بلکہ طاقت اور جبر ہے۔ ان عدالتوں کی تشکیل ہی اس مقصد کے لیے کی گئی تھی کہ قبضہ گیر مخالف آوازوں کو دبایا جائے، سیاسی جدوجہد کو جرم بنایا جائے اور کالونائزر کے ایجنڈے کے تحت مزاحمت کو کچلا جائے۔یہاں انصاف کی ترازو پر روحانیت کے بجائے عسکریت اور سرمایہ کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کا جملہ اسی تضاد کو واضح کرتا ہے کہ ان عدالتوں میں وظیفہ یا دعا نہیں بلکہ ڈالر، یعنی سرمایہ، طاقت اور رشوت فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔
نوآبادیاتی عدالتیں اکثر مذہب کو اپنے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ گواہوں سے قرآن پر حلف لیا جاتا ہے، فیصلوں سے پہلے آیات سنائی جاتی ہیں اور نظام کو ’’اسلامی‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب محض نظریاتی فریب ہے۔ فیصلے ہمیشہ اسی قوت کے حق میں آتے ہیں جو سرمایہ، طاقت یا فوجی نیٹ ورکس سے جڑی ہوتی ہے۔ یہی تضاد بلوچ عوام میں یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ پاکستانی عدالتیں دراصل مذہبی یا اخلاقی ادارے نہیں بلکہ نوآبادیاتی اقتدار کا ایک آلہ ہیں۔مارکس ہمیں سمجھاتے ہیں کہ سامراجی ریاست اور اس کے ادارے، بشمول عدالتیں، ہمیشہ سامراج کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ ان عدالتوں کا ’’قانون‘‘ دراصل ایمپائر کی مرضی اور نوآبادیاتی نظام کو تحفظ دینے اور برقرار رکھنے کا دوسرا نام ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ نے ان عدالتوں کی درست نشاندہی کی کہ ’’ڈالر کام کرتا ہے‘‘، تو اس نے اس مادی حقیقت کو بے نقاب کیا کہ نوآبادیاتی عدالتیں روحانی یا اخلاقی بنیادوں پر نہیں بلکہ سرمایہ اور طاقت کے تعلقات پر کھڑی ہیں۔ یہاں انصاف کی قیمت مقرر ہے اور سچائی صرف اسی کے حصے میں آتی ہے جس کے پاس طاقت اور زر موجود ہو۔
نوآبادیاتی ڈھانچے کا سب سے بڑا فریب یہ رہا ہے کہ اس نے قانون کو ’’مقدس‘‘ بنا کر پیش کیا۔ عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ عدالتیں انصاف دیتی ہیں، چاہے وہ غلامی کے نظام کا ہی حصہ کیوں نہ ہوں۔ مگر ڈاکٹر ماہ رنگ کے اس جملے نے اس ’’مقدس پردے‘‘ کو چاک کر دیا۔ اس نے واضح کر دیا کہ یہ عدالتیں نہ انسانوں کی ہیں، نہ انصاف کی؛ یہ عدالتیں صرف اور صرف قابض ریاست اور اس کے سامراجی آقاؤں کی خدمت کرتی ہیں۔ نوآبادیاتی عدالتوں پر یقین رکھنا دراصل خود فریبی ہے۔ ان سے انصاف کی توقع رکھنا اسی طرح ہے جیسے جلاد سے رحم کی امید رکھنا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ نوآبادیاتی عدالتیں انصاف کا سرچشمہ نہیں بلکہ جبر اور سرمایہ کا ہتھیار ہیں، جہاں انصاف خریدا جاتا ہے، قانون اشیا فروخت کی طرح بکتا ہے اور حق طاقتور و قابض کے قدموں میں مسل دیا جاتا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نوآبادیاتی نظام کے تحت قائم عدالتی ڈھانچے کبھی بھی انصاف کے اصولوں پر استوار نہیں ہوتے۔ ان کا مقصد مقبوضہ قوم کو انصاف دینا نہیں بلکہ ان کی مزاحمت کو قابو میں رکھنا، کالونیل ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنا اور اس کے کٹھ پتلی اقتدار کو دوام دینا ہے۔ اسی لیے ان عدالتوں میں دعا، وظیفہ یا اذکار کی روحانی قوتیں بے اثر رہتی ہیں، کیونکہ ان کا ڈھانچہ اخلاقی یا روحانی بنیادوں پر نہیں بلکہ مادی اور فوجی طاقت پر قائم ہوتا ہے۔ ڈالر، زر اور سرمایہ ہی اس نظام کی اصل کرنسی ہے۔ نوآبادیاتی عدالت کے جج، وکیل، گواہ حتیٰ کہ پولیس تک سب اسی کرنسی کے تابع ہوتے ہیں۔ ان عدالتوں کی ترازو میں حقائق یا سچ نہیں بلکہ پیسہ اور طاقت ہی بھاری رہتے ہیں۔
نوآبادیاتی طاقتیں ہمیشہ مذہب کو بطور ’’آئیڈیالوجیکل فریب ‘‘ کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔ عدالتوں میں جھوٹی قسمیں، مذہبی کتاب پر ہاتھ رکھوا کر فیصلے سنانا یا دعا کے نام پر مظلوم کو صبر کی تلقین کرنا، یہ سب اس نظام کو اخلاقی جواز دینے کے حربے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نوآبادیاتی عدالت کے کمرے میں نہ قرآن کی آیت فیصلہ کن ہوتی ہے، نہ دعا کی تاثیر؛ وہاں فیصلہ نوآبادیاتی طاقت کے دیے گئے ’’قانون‘‘ اور طاقت کے توازن کے مطابق ہوتا ہے۔ مارکس سامراجی عدالتوں کے اس پردے کو ہٹاتے ہوئے کہتا ہے کہ سامراجی قوانین دراصل سامراج کی مرضی کا رسمی اظہار ہیں۔ بالکل اسی نکتے پر ڈاکٹر ماہ رنگ کی تنقید قائم ہے، جو نوآبادیاتی نظام اور اس کی عدالتوں کی حقیقت کو عریاں کرتی ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ دنیا کے ہر خطے اور ہر دور میں نوآبادیاتی اور عسکری عدالتیں کبھی بھی عوامی انصاف کے ادارے نہیں رہیں بلکہ ہمیشہ طاقتور قابض اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی و معاشی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنی رہیں۔ جہاں ایک عام سیاسی کارکن یا انقلابی نظریات رکھنے والا طالب علم محض قومی جدوجہد کی پاداش میں ’’غدار‘‘ یا ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا جاتا ہے، وہیں انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب، نسل کشی میں ملوث افراد، ادارے اور جبری گمشدگیوں کے ذمہ دار، اور کرپشن میں ملوث عناصر نہ صرف بری ہو جاتے ہیں بلکہ ’’نام نہاد قومی محسن‘‘ بنا دیے جاتے ہیں۔
نوآبادیاتی عدالتیں دراصل ’’قابض مشینری‘‘ کا ایک پرزہ ہیں، جو فوجی بوٹوں کے نیچے انصاف کی کرسی کو جنگی جرائم کی فیکٹری میں بدل دیتی ہیں۔ یہ صورتحال صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ دنیا کی تمام نوآبادیاتی ریاستوں میں، جہاں فوجی اسٹیبلشمنٹ بالادست کردار ادا کرتی ہے، وہاں ’’عدلیہ‘‘ ایک نقاب بن جاتی ہے تاکہ عالمی طاقتوں کو یقین دلایا جا سکے کہ یہاں rule of law قائم ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہاں اصل میں rule of barbarism، یعنی ظلم و بربریت کا قانون، رائج ہوتا ہے۔
نوآبادیاتی ریاستوں میں عدالتیں کبھی غیر جانبدار ادارے کے طور پر موجود نہیں رہتیں۔ ان کا ڈھانچہ اور مقصد بنیادی طور پر قابض قوتوں کے مفاد کی تکمیل کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے۔ یہ عدالتیں بظاہر ’’انصاف‘‘ کی فراہمی کے نام پر وجود رکھتی ہیں، مگر ان کا حقیقی کردار طاقت اور جبر کے تسلسل کو قانونی جواز فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ہر نوآبادیاتی ریاست اپنی قبضہ گیری برقرار رکھنے کے لیے دو ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے: فوج اور عدلیہ۔ فوج براہِ راست طاقت استعمال کرتی ہے، جبکہ عدلیہ اس طاقت کو قانونی اور اخلاقی جواز عطا کرتی ہے۔ اسی لیے نوآبادیاتی نظام میں عدلیہ مظلوم قوموں کے لیے کبھی امید کا سہارا نہیں بنتی بلکہ قابض طاقت کے ہاتھ میں ایک ایسا نقاب بن جاتی ہے جو جبر کو ’’قانون‘‘ اور ظلم کو ’’انصاف‘‘ بنا کر پیش کرتی ہے۔
نوآبادیاتی عدالتوں کے سامنے ہمیشہ ایک عالمی چیلنج رہا ہے: وہ دنیا کو یہ تاثر دیں کہ ان کے زیرِ انتظام خطے میں rule of law قائم ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہاں ہمیشہ rule of barbarism چلتا ہے، جہاں قانون صرف کاغذ پر لکھا رہتا ہے اور عمل میں طاقتور اداروں کا ہتھیار بن چکا ہوتا ہے۔ عدلیہ کے فیصلے انفرادی آزادیوں کو کچلنے اور مزاحمت کو دبانے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ نام نہاد’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر ہر وہ آواز خاموش کر دی جاتی ہے جو نوآبادیاتی ڈھانچے کو للکارتی ہے۔
بھارت میں برطانوی سامراج نے اسی عدالتی ڈھانچے کو استعمال کیا، جس کے ذریعے بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی دی گئی۔ جنوبی افریقہ میں اپارتھائیڈ کے دور میں عدالتیں نسل پرستی کے قوانین کو ’’انصاف‘‘ کے طور پر نافذ کرتی رہیں۔ پاکستان میں فوجی عدالتیں اور انسدادِ دہشت گردی کورٹس بلوچ، پشتون اور دیگر مقبوضہ اقوام کے سیاسی کارکنوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے کر سزائیں سناتی ہیں۔
نوآبادیاتی ریاستوں کی عدلیہ صرف اندرونی مقبوضہ اقوام کو ہی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی مطمئن کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب عالمی برادری سوال اٹھاتی ہے تو یہی عدالتیں دکھاوے کے فیصلے سناتی ہیں تاکہ دنیا یہ سمجھے کہ یہاں ’’انصاف‘‘ کا نظام موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دکھاوا عالمی برادری کے لیے ایک پردہ ہے تاکہ نوآبادیاتی ریاستوں میں استحصال بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔ نوآبادیاتی عدالتیں انصاف کے ایوان نہیں بلکہ قابض طاقت کی جنگی مشینری کا حصہ ہیں۔ ان کے فیصلے قانون کی بالادستی نہیں بلکہ جبر کی بالادستی کی علامت ہوتے ہیں۔ لہٰذا مقبوضہ اقوام کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ان عدالتوں سے انصاف ملے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان عدالتوں کا نقاب کس طرح کشف کر کے اپنی آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔
نوآبادیاتی نظام کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس کے عدالتی اور انتظامی ڈھانچوں کا بنیادی مقصد کبھی انصاف کی فراہمی یا انسانی اقدار کی پاسداری نہیں رہا۔ ان نام نہاد ’’انصاف کے ایوانوں‘‘ کی بنیاد دراصل طاقت، سرمایہ اور قبضہ گیر قوتوں کے مفادات پر استوار تھی۔ یہاں فیصلے قرآن کی تلاوت کے اثرات، روحانی اذکار، انسانی وقار یا اخلاقی قدروں کے تابع نہیں ہوتے، بلکہ وہی فیصلے مسلط کیے جاتے ہیں جو کالونائزر کے قبضے کو مزید مستحکم کر سکیں۔ کالونیل جسٹس سسٹم کو سمجھنے کے لیے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ عدالتیں مقبوضہ اقوام کے لیے نہیں بلکہ قابض کے لیے ہیں۔ ان میں انصاف کا پیمانہ انسانی مساوات نہیں بلکہ طاقت کا ترازو ہے۔ طاقتور کالونائزر کی حیثیت جج، منصف اور قانون ساز تینوں کی ہوتی ہے، ایسے میں انصاف کی بجائے طاقت کا جبر فیصلہ کن قوت بن جاتا ہے۔
نوآبادیاتی ’’انصاف‘‘ کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اس نے قبضہ گیری کو ’’قانونی‘‘ جواز فراہم کیا۔ نوآبادیوں سے زمینیں چھینی گئیں، وسائل لوٹے گئے، اور جب محکوم اقوام نے مزاحمت کی تو انہیں انہی عدالتوں کے ذریعے باغی اور مجرم قرار دے کر سزائیں دی گئیں۔ یوں عدالت ایک طرف قابض طاقت کے تشدد کو تحفظ دیتی رہی اور دوسری طرف مقبوضہ قوم کی مزاحمت کو غیر قانونی قرار دے کر کچلنے کا جواز پیدا کرتی رہی۔
نوآبادیاتی عدالتیں کبھی انسانی اخلاقی اصولوں یا روحانی قدروں کے تابع نہیں رہیں۔ وہاں نہ انصاف کو عبادت سمجھا گیا، نہ عوام کی تکالیف کو انسانیت کے معیار پر پرکھا گیا۔ عدالتیں محض طاقت کے تسلسل کو قائم رکھنے والے ادارے بن گئیں۔ اس لیے ان کے فیصلوں میں نہ کوئی اخلاقی وزن تھا اور نہ ہی کسی مظلوم کی فریاد رسانی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ نوآبادیاتی نظام میں انصاف ایک ڈھونگ تھا، ایک ایسا پردہ جو دراصل طاقت، سرمایہ اور قبضہ گیری کی حقیقت کو چھپانے کے لیے رچایا گیا تھا۔ ان عدالتوں کے فیصلے تاریخ کے اوراق پر انصاف کے نہیں بلکہ ظلم و جبر کے فیصلے کہلائیں گے۔اصل انصاف ان نظاموں سے باہر پیدا ہونے والی قومی جدوجہد، مزاحمت اور آزادی کی تحریکوں میں ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
فوکالٹ نے طاقت کو ’’ڈسکورس‘‘ یعنی بیانیہ تخلیق کرنے والی قوت قرار دیا۔ عسکری عدالتیں اسی طاقت کا ادارہ ہیں جو بیانیہ تراشتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اذکار بے اثر اور وظیفے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ طاقت اور سرمایہ فلسفے کے دائرے میں ’’مادی حقیقت‘‘ ہیں، جبکہ وظیفہ محض ’’ماورائی امکان‘‘ ہے، جو دہشت اور بربریت کی مادی ساخت کو براہِ راست چیلنج نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کے جملے میں ایک انقلابی فلسفہ پوشیدہ ہے: اگر اپنی تقدیر بدلنی ہے تو محض مذہبی اذکار یا اخلاقی اپیلوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی جدوجہد اس نوآبادیاتی ڈھانچے کو توڑنے میں ہے جو عدالت کو زر اور طاقت کا غلام بناتا ہے۔ جب تک قابض کی طاقت کو توڑا اور اس کی وحشت کو پاش پاش نہ کیا جائے، تب تک روحانی وظیفے محض نفسیاتی تسلی کے مترادف رہیں گے۔ حقیقی آزادی اور انصاف کا راستہ صرف مزاحمت سے ہو کر گزرتا ہے۔
درحقیقت ’’وظیفے‘‘ یا دیگر روحانی تصورات کو سیاسی انصاف اور عدالتی نظام سے جوڑ دینا محض ایک نفسیاتی سہارا ہے، جو مظلوم اقوام کو وقتی تسلی تو دیتا ہے لیکن حقیقت میں ریاستی طاقت کے توازن پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ یہ تسلی مظلوم اقوام کے لیے ایسے ہی ہے جیسے صدیوں پہلے سامراج نے مذہب کو ’’افیون‘‘ کے طور پر استعمال کیا تاکہ مقبوضہ اقوام جدوجہد کے بجائے صبر اور تقدیر پر یقین رکھیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچے اور عدالتی اداروں کو چلانے والی قوت طاقتور اور قابض ہے، نہ کہ ماورائی دعائیں۔ طاقت جس کے ہاتھ میں ہو، وہی انصاف کی تعریف طے کرتا ہے اور وہی قانون کی تعبیر اپنے مفاد کے مطابق کرتا ہے۔
اسی لیے استعماری نظام میں وظیفے پڑھنے والے مظلوم جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں، جبکہ ریاستی گماشتے، کاسہ لیس دلال اور ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنے انہی عدالتوں سے ’’باعزت بری‘‘ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اس خود فریبی سے نکلنا ہوگا کہ انصاف وظیفوں، دعاؤں یا نوآبادیاتی عدالتوں کے تقدس سے حاصل ہوگا۔ انصاف صرف قومی شعور، اجتماعی جدوجہد اور طاقت کے توازن کو بدلنے سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ خیال کہ نوآبادیاتی نظام کے عدالت خانوں میں روحانی اذکار، اخلاقی اقدار یا ’’مقدس وظیفے‘‘ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، دراصل ایک فریبِ نظر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے نظاموں میں قانون کی تعبیر و تنفیذ ہمیشہ طاقت، قبضہ گیریت اور کالونائزر کے مفادات کے تابع رہتی ہے۔ نوآبادیاتی فریم ورک میں ’’انصاف‘‘ دراصل جبر کے مفاد کی تنظیم نو ہے۔ حقیقی انصاف کے لیے محض اخلاقی وعظ کافی نہیں بلکہ ساختی تبدیلی ناگزیر ہے، اور یہ تبدیلی صرف اور صرف آزادی کی صورت میں ممکن ہے۔