
کوئٹہ میں گرفتار کیے گئے بلوچ سیاسی کارکن غفار قمبرانی کو آج رہا کر دیا گیا، جو چار ماہ تک بغیر کسی الزام کے زیر حراست تھے۔ تاہم ان کی بیٹی بیبو بلوچ اور دیگر بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنما ابھی بھی حراست میں ہیں۔
واضح رہے کہ بی وائی سی رہنماؤں کو 20 مارچ 2025 کو ایم پی او (Maintenance of Public Order) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور دیگر کارکنان شامل ہیں، جنہیں کوئٹہ میں ایک پرامن احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا۔ حکام نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے کوئٹہ کے سول ہسپتال پر حملے کی منصوبہ بندی کی اور تشدد کو اکسانے کا عمل کیا، تاہم ان کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کے مقدمات بھی درج کیے گئے۔
غفّار قمبرانی کی رہائی کے باوجود، بی وائی سی رہنماؤں کی حراست اور ان کے اہل خانہ کی فلاح و حفاظت کے حوالے سے تشویش برقرار ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے مسلسل ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔