
ضلع کیچ کے علاقے تمپ دازن سے تعلق رکھنے والے نوجوان سہیل احمد ولد عبداللہ لشکراں پیر کی شب بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔
سہیل احمد کو 11 اکتوبر 2024 کو دازن تحصیل تمپ سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ اہلخانہ کے مطابق سہیل بلوچ کو تقریباً دس ماہ تک ٹارچر سیل میں رکھا گیا جہاں انہیں غیر انسانی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی بازیابی پر گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
اہلخانہ نے بتایا کہ سہیل احمد ایک نفسیاتی مریض ہیں اور ان کا باقاعدہ علاج جاری تھا۔ وہ ماضی میں بھی 2022 میں جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے اور ایک ماہ بعد رہا کیے گئے تھے، اس دوران بھی انہیں شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا رہا۔
اہلخانہ کے مطابق گوادر سے تربت سفر کے دوران سہیل ایک حادثے کا شکار ہوئے تھے، جس میں وہ ٹرک سے گر کر شدید زخمی ہوگئے تھے اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ٹوٹ گئے تھے۔ علاج کی غرض سے انہیں بہمن لے جایا گیا، تاہم 11 اکتوبر 2024 کو وہاں سے دوبارہ جبراً لاپتہ کر دیا گیا۔

