
تحریر: مخلص بلوچ
زرمبش مضمون
بلوچ قومی جدوجہد محض بندوق یا وقتی جذبے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل سیاسی و فکری عمل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم جب تک آپس میں متحد نہ ہو، اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔ اسی اتحاد کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ اور اپنی روزمرہ زندگی سے سبق لینا ہوگا۔
ایک بڑی مثال یہ ہے کہ جب ہندوستان کے عوام نے انگریز سامراج کے خلاف اتحاد کیا تو مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں کے لوگ ایک جھنڈے تلے جمع ہوئے۔ اختلافات ضرور موجود تھے، لیکن آزادی کے مقصد نے سب کو جوڑ دیا، اور آخرکار سامراج کو جانا پڑا۔ یہی سبق ہمیں بھی یاد رکھنا ہوگا کہ جب تک ہم سب ایک صف میں کھڑے نہ ہوں، دشمن کو شکست دینا ممکن نہیں۔
اسی طرح ایک چھوٹی مگر گہری مثال یہ ہے کہ تنہا ایک لکڑی کی تیلی آسانی سے ٹوٹ جاتی ہے، لیکن جب دس تیلوں کو باندھ دیا جائے تو کوئی بھی قوت انہیں توڑ نہیں سکتی۔ یہی اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اکیلا بلوچ کمزور ہے، لیکن متحد بلوچ ناقابلِ شکست ہے۔
ہر تنظیم اور اس کے رہنما پر یہ فرض ہے کہ وہ نہ صرف اپنے رکنوں کا خیال رکھیں بلکہ ہر اس بلوچ کا محافظ بنیں جو اپنی قوم کی آزادی کے خواب کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چاہے وہ سیاسی کارکن ہو، مزاحمتی سپاہی ہو یا عام بلوچ شہری — سب ایک ہی جسم کے اعضا کی مانند ہیں۔ ایک حصے پر حملہ پورے جسم کو متاثر کرتا ہے۔
جہاد اور مزاحمت کی کامیابی اندھی طاقت میں نہیں، بلکہ سیاسی حکمت، اجتماعی اتحاد اور منظم منصوبہ بندی میں ہے۔ دشمن کو شکست دینے کا راستہ یہ ہے کہ ہم سوچ سمجھ کر، وقت اور حالات کے مطابق اپنی حکمتِ عملی مرتب کریں۔ طاقت تب ہی اثر دکھاتی ہے جب اس کے پیچھے تدبیر اور قومی یکجہتی موجود ہو۔
اسی طرح، تنظیمی ڈسپلن وہ ستون ہے جس پر ہماری پوری تحریک کھڑی ہے۔ جب تک ہر رکن اپنی ذاتی خواہشات کو پیچھے رکھ کر اپنے قائدین کے فیصلوں پر عمل نہیں کرے گا، جدوجہد میں استحکام نہیں آ سکتا۔ ڈسپلن اور قیادت کا احترام ہی کسی تحریک کو کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
آج بلوچ قوم کو یہ پیغام دینا لازمی ہے کہ ہماری اصل طاقت ہمارے اتحاد، ہماری ذمہ داری، ہماری حکمتِ عملی اور ہمارے ڈسپلن میں ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو دشمن کی شکست اور ہماری آزادی کی ضمانت ہے۔