
بلوچستان کے ضلع آواران میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں پہلے سے جبری لاپتہ ہونے والے نوجوان قتل کے بعد ان کی لاش ریکن کے علاقے سے برآمد ہوئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق نواز بلوچ سکنہ بزدار آواران کو دو روز قبل پاکستانی فوج نے اپنے کیمپ میں بلا کرکے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد وہ جبری طور پر لاپتہ ہوگئے تھے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ان کی گولیوں سے چھلنی لاش آواران کے علاقے ریکن میں پھینکی گئی۔
بلوچستان میں اس نوعیت کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں جہاں جبری لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہونے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان ہلاکتوں کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔