
ضلع کیچ کے تحصیل تمپ میں گزشتہ روز پاکستانی فورسز کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کئے گئے عدنان بلوچ اور ادھم بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ذرمبش ذرائع کے مطابق، فورسز نے تمپ کے علاقے سرنکن میں ایک گھر پر چھاپہ مار کرگھر کی تلاشی لی اور پوچھ گچھ کے دوران بچوں اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور ان کے موبائل فونز بھی چھین لئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ گھر جبری طور پر لاپتہ عدنان اور ادھم بلوچ کا تھا۔
ذرائع کے مطابق، جبری طور پر لاپتہ کئے گئے ادھم بلوچ اور عدنان بلوچ آپس میں بھائی ہیں۔ ادھم بلوچ کو مبینہ طور پر ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہ نے 19 اور 20 اکتوبر کی درمیانی شب گھر سے اٹھا کر لاپتہ کر دیا تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی ادنان بلوچ کو پاکستانی فورسز نے 19 اگست 2026ء کو ہیرآباد ہوٹل سے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔ دونوں بھائی تاحال لاپتہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد ابراہیم کے دونوں بیٹوں، ادھم اور عدنان کی جبری گمشدگی سے قبل بھی ریاستی اہلکار تین مرتبہ ان کے گھر پر دستی بموں سے حملے کر چکے ہیں۔
