
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کے قافلوں، ڈیتھ اسکواڈز اور غیر مقامی افراد پر مسلح حملوں اور کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز ضلع واشک کے علاقے بسیمہ میں پاکستانی فورسز کے ایک ملٹری قافلے کو مسلح افراد نے شدید حملے کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور 5 سے زائد اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ہیں۔
واقعے کے فوراً بعد علاقے سے زخمیوں اور لاشوں کو منتقل کرنے اور فورسز کو انخلا میں مدد فراہم کرنے کے لیے ملٹری ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔
دوسری جانب، ضلع پنجگور کے علاقے گوارگو میں بھی پاکستانی فورسز کے ایک اور قافلے کو مسلح افراد نے حملے کا نشانہ بنایا ہے۔
حملے کے بعد علاقے میں فورسز کی جانب سے ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، تاہم فوری طور پر حملے میں ہونے والے حتمی جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
اسی طرح ضلع کیچ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آج صبح نودز کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہ کے اراکین پر اچانک حملہ کر دیا۔
مسلح افراد کی جانب سے کئے گئے اس حملے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ حملہ آور کارروائی کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ساحلی شہر گوادر کے علاقے گٹی ڈور میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک غیر مقامی شخص کو قتل کر دیا۔
مقتول کی شناخت رانا محمد احمد کے نام سے ہوئی ہے جو کہ لاہور (پنجاب) کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق مسلح افراد نے گوادر کے علاقے گھاٹی دور میں فائرنگ کر کے انہیں نشانہ بنایا اور واقعے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔
ان واقعات سے متعلق دیگر معلومات فراہم نہیں ہو سکیں ہیں اور نا ہی تاحال کسی تنظیم کی جانب سے ان کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔