
بلوچستان کے علاقے بلیدہ میناز میں گزشتہ روز بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی خواتین عسکری جنگجوؤں کی آمد اور علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ایک غیر معمولی اور جذباتی صورتحال دیکھنے میں آئی، جہاں مقامی خواتین نے ان کا زبردست اور پُرجوش استقبال کیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور اطلاعات کے مطابق بھاری اور جدید ہتھیاروں سے لیس خواتین جنگجوؤں نے اپنے چہروں کو بی ایل ایف کے پرچم سے ڈھانپ رکھا تھا اور اپنے مرد ساتھی جنگجوؤں کے شانہ بشانہ علاقے میں موجود تھیں۔
اطلاعات کے مطابق علاقے میں خواتین جنگجوؤں کے داخلے اور کنٹرول سنبھالتے ہی مقامی خواتین بڑی تعداد میں گھروں سے نکل آئیں اور انکو پرجوش اور جزباتی انداز میں خوش آمدید کہا۔
اس موقع پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے؛ مقامی خواتین نے کاڈ کے جنگجوؤں کو گلے لگایا، ان کے بوسے لیے اور اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔
عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز کے مطابق، خواتین جنگجوؤں کے علاقے پر کنٹرول کے بعد مقامی آبادی، بالخصوص خواتین میں خوشی کی لہر ڈور گئی اور انہوں کے جنگجوؤں کو گلے لگایا اور ان کے ہاتھوں اور چہرے کے بوسے لیے۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی عوام کے ساتھ گھلتے ملتے ہوئے خواتین سرمچاروں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس آزادی کی جنگ کا کھل کر حصہ بنیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ "آج یا کل ہم نے شہید ہو جانا ہے، لیکن اس قومی جنگ کو اب آپ لوگوں کو خود لڑنا ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔”
ا س موقع پر موجود عوام نے سرمچاروں کے اس جذبے کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بلیدہ میناز کے یہ مناظر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان کے اندرونی علاقوں سے ریاستی رٹ اب تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور عوام میں مسلح مزاحمتکاروں کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
