
جبری لاپتہ آدم اکرم کے لواحقین نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) سے رابطہ کرکے انکی جبری گمشدگی کے تفصیلات تنظیم کو فراہم کر دیں ہیں۔
لواحقین کے مطابق ضلع کیچ کے علاقے شے تگر گھنہ کے رہائشی دکاندار آدم اکرم ولد اکرم علی کو 9 اگست 2026 کی رات تقریباً 3 بجے تربت کے علاقے شے تگر گھنہ میں ایف سی چیک پوسٹ کے قریب سے سکیورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ تاحال نہ تو ان کی حراست کی وجوہات بتائی جا رہی ہیں اور نہ ہی خاندان کو ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہیں۔
انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ آدم اکرم کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی خیریت سے آگاہ کیا جائے۔
وی بی ایم پی نے آدم اکرم کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو حراست میں لینے کے بعد ملکی قوانین اور آئین کے مطابق قانونی تقاضے پورے کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے، جبکہ اس کے اہلِ خانہ کو بھی اس کی حراست اور مقام کے بارے میں آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔
وی بی ایم پی نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آدم اکرم کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے اور ملکی قوانین کے تحت اپنے دفاع اور قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق دیا جائے۔
تنظیم نے زور دیا کہ آدم اکرم کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں فوری معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اس کرب اور غیر یقینی صورتِ حال سے نجات حاصل کر سکیں۔
