بساک اور بی ایس او پجار کی جانب سے نوشکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ کے واقعے کی مذمت

بلوچ طلباء تنظیمیں، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار نے گرلز ڈگری کالج نوشکی میں فائرنگ کے واقعے اور تین طالبات کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی شفاف تحقیقات، متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے میں فائرنگ کا واقعہ انتہائی تشویشناک ہے، جس کے باعث طالبات میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ بیان کے مطابق بلوچستان میں ایک جانب تعلیمی بہتری کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات تعلیمی ماحول اور طلبہ کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں اس سے قبل اساتذہ اور پروفیسرز کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ اب طلبہ و طالبات کی سلامتی بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے غیر تسلی بخش انتظامات باعثِ تشویش ہیں، جو تعلیمی سرگرمیوں اور خواندگی کے فروغ کو متاثر کرسکتے ہیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مطابق معیاری تعلیم کے لیے ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول ضروری ہے، جہاں طلبہ و طالبات خوف اور عدم تحفظ کے بغیر تعلیم حاصل کرسکیں۔

کمیٹی نے تعلیمی اداروں میں تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نوشکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ کے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، زخمی طالبات کو انصاف فراہم کیا جائے اور واقعے میں ملوث ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

بیان میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ، پروفیسرز اور طلبہ و طالبات کے تحفظ کے لیے مؤثر سیکیورٹی اقدامات یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

دوسری جانب بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) پجار کے مرکزی ترجمان نے بھی نوشکی میں گرلز کالج پر فائرنگ، توڑ پھوڑ اور اس افسوس ناک واقعے کے نتیجے میں تین طالبات کے زخمی ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے علم، شعور، امن اور روشن مستقبل کی علامت ہوتے ہیں۔ ان اداروں کو تشدد اور خوف کا نشانہ بنانا نہ صرف قابلِ مذمت جرم ہے بلکہ بلوچ معاشرے کے تعلیمی، سماجی اور فکری مستقبل پر حملہ ہے۔ طالبات کو نشانہ بنانا ایک انتہائی سنگین، غیر انسانی اور ناقابلِ قبول عمل ہے، جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں ہو سکتی۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچ معاشرے میں خواتین کی تعلیم محض ایک تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ سماجی ترقی، فکری آزادی، قومی شعور اور روشن مستقبل کی بنیادی شرط ہے۔ ایسے عناصر جو بندوق، دھمکی اور تشدد کے ذریعے طالبات کو خوف زدہ کرکے تعلیمی اداروں سے دور کرنا چاہتے ہیں، درحقیقت ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ترقی پسند معاشرے کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ خوف اور جبر کے ذریعے علم کی جستجو کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی بلوچ طالبات پر تیزاب پھینکنے کے واقعات، خواتین کی تعلیم کے خلاف دھمکیوں اور انگریزی زبان کے مراکز کو بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے جیسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان واقعات نے بارہا اس تشویش کو جنم دیا ہے کہ خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کو محدود کرنے کے لیے مختلف ادوار میں مختلف حربے استعمال کیے گئے۔ نوشکی کے گرلز کالج پر آج کا حملہ بھی اسی وسیع تر تناظر میں سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے کہ آخر طالبات کے تعلیمی مستقبل، تحفظ اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانے میں ریاستی ادارے کس حد تک کامیاب رہے ہیں۔
بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ اگر تعلیمی ادارے محفوظ نہیں، طالبات خوف کے ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور والدین اپنی بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں، تو یہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ حکومتی ذمہ داریوں، ریاستی ترجیحات اور تعلیمی تحفظ کے نظام پر ایک بنیادی سوال ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے محض روایتی مذمتی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر، شفاف اور قابلِ احتساب اقدامات کریں۔

مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ نوشکی گرلز کالج پر حملے کی فوری، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کی جائیں، واقعے میں ملوث عناصر کی شناخت کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے، زخمی طالبات کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کالج سمیت بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں، بالخصوص طالبات کے اداروں، کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ حکومت اس امر کو بھی یقینی بنائے کہ اس واقعے کے متاثرین اور گواہوں کو تحفظ حاصل ہو اور تحقیقات پر کسی قسم کا دباؤ اثرانداز نہ ہو۔

بیان کے اختتام پر ترجمان نے واضح کیا کہ بی ایس او پجار طالبات کے تعلیمی حق، خواتین کی آزادی، فکری خودمختاری اور علم دوست معاشرے کی تشکیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بندوق اور خوف کے ذریعے کتاب، قلم اور شعور کا راستہ روکنے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ بلوچستان کی بیٹیاں تعلیم، وقار اور محفوظ مستقبل کی حق دار ہیں، اور ان کے حقِ تعلیم کا تحفظ حکومت، ریاستی اداروں اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

تربت: ریاستی حمات یافتہ مسلح گروہ کے ہاتھوں کم سن لڑکا جبری لاپتہ

بدھ اکتوبر 28 , 2026
تربت کے علاقے گیبن سے ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہ نے ایک کم سن لڑکے کو گھر سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔ زمبش ذرائع کے مطابق گزشتہ شب 2 بجے کے قریب مسلح افراد تربت کے علاقے گیبن میں ایک گھر میں داخل ہوئے اور 16 سالہ […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ