
بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی کے علاقے کپر کے ماہی گیروں نے سربندر سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کی جانب سے ممنوعہ جالوں اور سرچ لائٹس کے ذریعے غیر قانونی شکار اور مخالفت پر ملنے والی سنگین دھمکیوں کے خلاف احتجاجاً سمندر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پسنی پریس کلب میں راشد بلوچ کی سربراہی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کپر کے ماہی گیروں نے کہا کہ سربندر کے کچھ ماہی گیر ایک سیاسی پارٹی کی پشت پناہی پر آئے روز کپر کے سمندری حدود میں آکر ممنوعہ طریقوں سے شکار کر رہے ہیں، جس سے مقامی ماہی گیروں کا روزگار شدید متاثر ہو رہا ہے۔
راشد بلوچ اور دیگر ماہی گیر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ضلع گوادر کے ماہی گیروں نے باہمی مشاورت سے سمندری وسائل کے تحفظ اور نظم و ضبط کے لیے کچھ روایتی قوانین طے کر رکھے ہیں—جن کے تحت جمعہ کے روز شکار پر پابندی، رات کے وقت ماہی گیری سے گریز اور سرچ لائٹس کے استعمال پر مکمل ممانعت شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سربندر کے بعض ماہی گیر ان تمام طے شدہ ضوابط کو پامال کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ‘سربندر ماہی گیر اتحاد’ کو بھی باضابطہ آگاہ کیا گیا، مگر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔
ماہی گیر رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ 24 اکتوبر کی رات جب مخالف فریق ممنوعہ جالوں کے ساتھ کپر کے سمندر میں داخل ہوا تو انہیں روکنے پر کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس دوران مخالف فریق نے حملے کی کوشش کی، جس پر مقامی ماہی گیروں نے ممنوعہ جال ضبط کر لیے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد کپر کے ماہی گیروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ 40 سے 50 اسپیڈ بوٹس کے ذریعے ان پر حملہ کیا جائے گا۔ مزید برآں، سربندر میں کھڑی کپر کے ماہی گیروں کی تقریباً 70 اسپیڈ بوٹس—جن کی مالیاتی قدر کروڑوں روپے ہے—کو نقصان پہنچانے اور تباہ کرنے کی کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ پرامن شہری ہیں اور انہیں قانونی طریقے سے شکار کرنے والے کسی بھی ماہی گیر پر اعتراض نہیں، لیکن سیاسی پشت پناہی کی آڑ میں غنڈہ گردی اور سمندری وسائل کی تباہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنر گوادر، محکمہ فشریز، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ کپر کے سمندر میں ممنوعہ جالوں اور سرچ لائٹس کے استعمال پر فوراً پابندی عائد کی جائے۔کروڑوں روپے کی کشتیوں کو نقصان پہنچانے اور جان سے مارنے کی مبینہ دھمکیوں کی بلا تاخیر غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ سربندر میں موجود کپر کے ماہی گیروں کی ۷۰ کے قریب اسپیڈ بوٹس اور دیگر اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔اور دونوں فریقین کے درمیان پیدا شدہ کشیدگی کا فوری تدارک کر کے ماہی گیروں کو بلا خوف و خطر روزگار کمانے کی ضمانت دی جائے۔