
گوادر میں جاری بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ”آپریشن الماس“ کے دوران تنظیم نے ایک خاتون فدائی سمیت دیگر فدائی حملہ آوروں کی آڈیو ریکارڈنگ اور ایک مختصر وڈیو فوٹیج جاری کی ہے۔
جاری کردہ آڈیو میں خاتون فدائی کا نام ”الماس“ بتایا گیا ہے، جن کے نام پر اس عسکری معرکے کا نام رکھا گیا ہے۔
آڈیو میں آپریشن کمانڈر فدائی خاتون سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ یہ آپریشن آپ کے نام سے منسوب ہے، لہٰذا آپ وہاں کی زمینی صورتحال سے آگاہ کریں اور بلوچ قوم کے نام اپنا پیغام دیں۔
آڈیو ٹرانسکرپشن کے مطابق، فدائی خاتون نے محاذ جنگ سے صورتحال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپیں تاحال جاری ہیں، اور پاکستانی فوج کے متعدد اہلکاروں کی لاشیں ان کے سامنے پڑی ہیں۔
پاکستانی فوج کو بزدل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فوج بلوچوں کے مقابلے کی سکت نہیں رکھتی اور ان کے کئی اہلکار میدانِ جنگ سے بھاگ چکے ہیں۔ گفتگو کے پس منظر میں شدید دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں بھی صاف سنی جا سکتی ہیں۔
بلوچ قوم کے نام اپنے پیغام میں فدائی خاتون نے پرزور اپیل کی کہ جنگ کا سلسلہ جاری ہے اور تمام بلوچ اس کا حصہ بنیں، کیونکہ غلامی کے اس دور میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ گوادر کو کسی بھی صورت میں ہاتھ سے جانے نہیں دیا جائے گا۔
جاری کردہ ایک اور آڈیو میں دیگر فدائی حملہ آور بی ایل ایف کے آپریشنل کمانڈر کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں، ایک حملہ آور اپریشنل کمانڈر کو جنگی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کے ساتھی صحیح سلامت ہیں، جنگی ساز و سامان سے لیس ہیں اور کل تک جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ نے گوادر میں پاکستانی فوج کے عسکری کیمپ پر کیے جانے والے فدائی حملے کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کر دی ہے جس میں سڑک متعدد گاڑیوں کو آگے پیچھے گزرتے دیکھا جا سکتا ہیں، جبکہ شاہراہ کے قریب ہی عسکری کیمپ واقع ہے۔
ویڈیو کے دوران اچانک ایک شدید دھماکا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں فضا میں دھوئیں اور بارود کے بادل بلند ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں ایک جنگجو کی جذباتی آواز بھی سنائی دیتی ہے جو کہتی ہے کہ "قربان، میں قربان جائوں زامرانی جان کے لئے”۔
تنظیم کی جانب سے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہی فدائی سرمچار مجاہد مہر عرف سگار زامرانی تھے، جنہوں نے بارود سے بھری گاڑی عسکری کیمپ سے ٹکرا کر یہ حملہ کیا۔
بی ایل ایف کے اس آپریشن اور فدائی حملہ آوروں کی آڈیو سمیت وڈیو فوٹیج کے سامنے آنے کے باوجود تاحال پاکستانی عسکری یا سرکاری حکام کی جانب سے اس کی کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید جاری نہیں کی گئی ہے، تاہم حملے کے بعد سے گوادر کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور شہر کے اطراف میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔
