
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان شولان بلوچ نے میڈیا کو جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ دنیا میں ہر قابض ریاست کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اپنے زیرقبضہ قوموں کو بہ یک وقت ہارڈ سمیت سافٹ پالیسی کے زریعے حکمرانی کرتی ہے۔ قبضہ گیر صرف زمین پر قابض نہیں رہتا بلکہ وہ اس قوم کی ہر اس چیز پر جبری مسلط قائم کرتا ہے جو اس قوم کی وجود سے وابستہ ہیں۔ مگر ان تمام عناصر کے ساتھ قابض اس قوم کی نوجوانوں کو نشانہ بنا کر ان کے ذہنوں کو اپنے تابع میں رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ نوجوانوں کو مختلف فریبی اور جھوٹے دعووں کے زریعے پھنسا کر ان میں حقیقی علمی، تخلیقی، تنقیدی اور شعوری پہلوؤں کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ قابض پاکستانی ریاست نے بلوچستان پر جبری قبضے کے بعد ہمیشہ کوشش کی ہے کہ نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے تابع رکھ کر ان پر مختلف ہتھکنڈوں کے زریعے حکمرانی کی جائے۔ اسی مناسبت سے قابض نے سافٹ پالیسی کے تحت بلوچستان میں یوتھ انگیجمنٹ پالیسی کو اپنایا ہے جہاں قابض پاکستانی ریاست نے نام نہاد تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کا ایک جال بنایا ہوا ہے۔ اس سافٹ پالیسی کے زریعے انگیجمنٹ کا مقصد بلوچ نوجوانوں میں حقیقی علمی،تخلیقی، تحقیقی، تنقیدی اور شعوری فکر کو مسخ کرنا ہے تاکہ وہ صرف روبوٹ بن کر قابض کی مسلط کیے گئے ہر عمل کو خوشی سے قبول کرے۔ اور ان میں قومی آزادی کی تحریک سے انتہائی چالاکی سے دستبردار کرکے ان میں قومی مزاحمت اور سیاسی شعور کو ختم کیا جاسکے۔
انکا کہنا تھا کہ مقبوضہ بلوچستان میں بہ یک وقت قابض بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے، لوگوں کو جبراً گمشدہ کرکے ٹارچر سیلوں میں اذیت دینے میں مصروف ہے تو وہی بلوچ نوجوانوں میں نام نہاد تعلیم کا ڈھونگ رچا کر ان کو مشغول کرنے پر عمل پیرا ہے۔ قابض کئی دہائیوں سے اس سافٹ پالیسی کے زریعے بلوچستان میں سرگرم ہے مگر 2024 کے بعد اس کو مزید منظم کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کرکے کئی این جی اوز اور کمیٹیاں بنائی گئی ہیں اور بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں سمیت دیگر اداروں میں سرگرم ہیں۔ ان میں براہِ راست قابض فوج ملوث ہے تو بیشتر جگہوں پر سافٹ امیج والے بلوچ اور نوآبادکار شامل ہیں جو اپنی ذاتی مفاد کے لیے اسکالرشپس، ٹوُر، پیکج، سمیٹس اور فیسٹویل، ورکشاپ، نام نہاد بیرونی اسکالرشپس، کھیل اور سماجی سرگرمی، عورت سیمنار اور ورکشاپ سمیت دیگر نام نہاد تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کے لبادے بلوچ نوجوانوں کو مشغول کرکے ان میں پاکستانی سوچ اور بلوچ قومی تحریک سے دور کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ بظاہر نام نہاد ترقی اور تعلیم کے دعوے کرتے ہیں مگر ان کا بنیادی مقصد بلوچ نوجوانوں کو عارضی طور پر مشغول کرکے ان کو بلوچ قومی تحریک سے دور رکھنا ہے۔ یہ ایک طرف اس نوجوان کی مستقبل پر حملہ ہے تو دوسری جانب بلوچ قوم کی اجتماعی مفاد کے لیے خطرہ ہے۔
شولان بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچ نوجوان جو پیدائشی قومی سیاست اور مزاحمت کا حصہ ہیں کیونکہ جابر اور قابض کے خلاف مزاحمت ان کو وراثت میں ملی ہے۔ بلوچ نوجوان اس خطے کے شعوریافتہ ترین طبقہ ہے جو کئی دہائیوں سے قابض پاکستانی ریاست کے خلاف اپنی کھوئی ہوئی آزادی کو دوبارہ حاصل کرنے لیے مخلتف محاذوں پر برسرپیکار ہے۔ وہ صرف اپنے ذات کے لیے مطالعہ نہیں کرتے بلکہ بلوچ سماج کی اجتماعی مفاد کے لیے تعلیم حاصل کرکے اپنی قومی ریاست کی بحالی پر جدوجہد کررہے ہیں۔ انہی اجتماعی سوچ اور اعمال نے بلوچ سماج کو اب تک ٹوٹنے نہیں دیا بلکہ نوآبادیاتی دور میں بلوچ قومی شناخت اور مزاحمتِ سرزمین کو زندہ رکھا ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ قابض کو ڈر ہے کہ بلوچ نوجوان اگر اس اجتماعی سوچ کو مزید مستحکم کرکے عملی اور علمی میدان میں زیادہ متحرک رہیں تو قابض کی جڑیں بلوچستان میں جلد ٹوٹ کر ان کا جھوٹا وجود نیست و نابود ہوجائی گی۔ اسی لیے وہ بلوچ نوجوانوں کی فکر اور ذہنوں پر حملہ آور ہوکر انہیں مسخ کرنے کے لیے من گھڑت سرگرمیوں کا سہارا لے رہا ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قابض کبھی بھی غلام کے لیے مہربان نہیں ہوتا اور ناں ہی ان کی حقیقی ترقی پر سنجیدہ رہتا ہے بلکہ قابض کا ہر عمل جا بظاہر صحیح لگتا ہے اپنے قبضہ گیریت کو دوام بخشنے اور مزید منظم کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ مگر بی ایس او آزاد بلوچ قومی تحریک میں نوجوانوں کا نمائندہ ہوکر ہمیشہ قابض پاکستان کی ان جیسے بلوچ دشمن پالیسیوں کو پاش کرکے ان کے خلاف علمی او عملی طور پر مزاحمت کرتا رہے گا۔
ترجمان نے بیان میں کہاں کہ مزاحمت کے چیدے بلوچ نوجوانوں کو قابض کی ان تمام پروگراموں کا بائکاٹ کرنا بلوچ قومی مفاد کے لیے ناگزیر ہے۔ تمام بلوچ نوجوان ان جیسے ریاستی سرگرمیوں سے خود کو دور رکھ کر خود میں حقیقی علمی،تخلیقی، تنقیدی اور شعوری سوچ پیدا کرکے بلوچ قومی تحریک میں شامل ہوکر اپنی علمی اور عملی توانائی بلوچستان کی دوبارہ آزادی کے لیے وقف کریں کیونکہ ہمارا مستقبل آزاد بلوچستان میں ہی محفوظ ہے۔
