
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ آپریشن الماس جاری ہے، مختلف مقامات پر قابض فوج کو پسپائی کا سامنا ہے، ایم آئی کیپٹن اور ایس ایس جی کے متعدد اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ فوج کے مرکزی کیمپ پر بی ایل ایف کا پرچم لہرادیا گیا ہے جبکہ پولیس تھانہ پر قبضہ اور گاڑی تباہ۔
ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کا آپریشن الماس مختلف محاذوں پر پوری شدت اور کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جس کے دوران قابض پاکستانی فوج کو پسپائی اور جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آپریشن الماس میں اب تک مختلف مقامات پر معرکوں میں سرمچاروں نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ آپریشن الماس کے دوران سرمچاروں نے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے ایک کیپٹن اور اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے متعدد اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ گوادر زیرو پوائنٹ کے مقام پر فرنٹئر ورکس آرگنائزیشن کے مرکزی کیمپ پر غلبہ حاصل کر کے وہاں بلوچستان لبریشن فرنٹ کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے، جو سرمچاروں کی فتح اور پیش قدمی کا عین ثبوت ہے۔
میجر گہرام نے کہا کہ سرمچاروں نے مژانی پولیس تھانے پر مکمل قبضہ حاصل کر کے وہاں موجود تمام سرکاری اسلحہ اور عسکری سامان اپنے تحویل میں لے لیا ہے جبکہ تصادم کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔ علاوہ ازیں گبد کے مقام پر قابض فوج کے ایک فوجی قافلے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کی ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ گبد کراس پر قائم پولیس چوکی بھی ہمارے سرمچاروں کے قبضے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن الماس تاحال مختلف محاذوں پر پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ آپریشن الماس کی مکمل تفصیل اور حتمی نقصانات کا تفصیلی بیان آپریشن کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کو جاری کیا جائے گا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
