شورپارود سے ہزاروں بلوچ خاندانوں کی جبری بے دخلی بلوچ قوم کو اپنی ہی آبائی سرزمین پر اجنبی بنانے کی منظم ریاستی پالیسی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اپنے جاری ایک بیان میں کہاں ہے کہ شورپارود میں ہزاروں بلوچ خاندانوں کو اپنی آبائی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنا محض ان کے گھروں اور زمینوں سے محرومی کا معاملہ نہیں، بلکہ ان کی معاشی خودمختاری، ثقافتی شناخت، تاریخی وابستگی اور اجتماعی زندگی کو نقصان پہنچانے کا ایک جابرانہ اقدام ہے۔ جب لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا جائے اور انکار کی صورت میں طاقت کے استعمال کی دھمکی دی جائے، تو ان کی زندگی، سلامتی اور مستقبل کو خوف اور غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر دیا جاتا ہے۔ اس کے اثرات صرف بے گھری تک محدود نہیں رہتے، بلکہ روزگار، تعلیم، سماجی رشتوں اور نسلوں سے قائم ثقافتی وابستگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ شورپارود کے عوام کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخل کرنا ان کے اپنے گھروں میں محفوظ رہنے، اپنی زمین سے وابستہ زندگی برقرار رکھنے اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں اختیار رکھنے کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ یہ جبر کے ذریعے ایک پوری آبادی کو اس کی سرزمین سے الگ کرنے کی کوشش ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ان اقدامات کو بلوچ عوام کے خلاف اجتماعی سزا اور ریاستی دہشد کی اس منطق کا اظہار سمجھتی ہے جس کے تحت اپنی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے زمین پر آباد لوگوں کو ہی اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ جبری بے دخلی کو جواز دینے اور عوام کو راضی کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے عارضی کیمپوں، خوراک اور ادویات کی فراہمی کے وعدے کیے جا رہے ہیں، مگر خیمے آبائی گھروں کا متبادل اور امداد زمین سے محرومی کا ازالہ نہیں ہو سکتی۔ لوگوں کو پہلے اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا اور پھر عارضی پناہ فراہم کرنا ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا متبادل نہیں بن سکتا۔

انکا مزید کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی شورپارود کے عوام کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات اور جبری بے دخلی کی دھمکیوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ یہ احکامات فوری طور پر واپس لیے جائیں، مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور لوگوں کے اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں میں باعزت، آزادانہ اور محفوظ زندگی گزارنے کے حق کا احترام کیا جائے۔

بی وائی سی نے واضح کیا کہ ہم بلوچ عوام کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخل کرکے ان کے اجتماعی وجود، شناخت اور مستقبل کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کریں گے۔ بلوچ قوم کی سرزمین کوئی خالی خطہ نہیں جس پر آباد لوگوں کی مرضی، تاریخ اور حقوق کو نظرانداز کرکے فیصلے مسلط کیے جائیں۔ ہمارے گھر محض عمارتیں نہیں، ہماری زمین محض جغرافیہ نہیں اور ہماری موجودگی کسی حکم نامے کی محتاج نہیں۔ یہ سرزمین ہماری تاریخ، ہماری شناخت اور ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔ ہمیں اپنی ہی سرزمین پر رہنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں۔ بلوچ عوام کو ان کی زمین سے بے دخل کرکے ان کے تاریخی تعلق کو ختم نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی دھمکی، جبر اور طاقت کے ذریعے کسی قوم کو اس کی شناخت اور آبائی سرزمین سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

گوادر آپریشن الماس؛ بی ایل ایف نے ایک فدائی حملہ آوار کی تصویر اور حملے کی وڈیو فوٹیج جاری کردی

جمعرات اکتوبر 22 , 2026
بلوچستان لبریشن فرنٹ نے گوادر میں جاری “آپریشن الماس” میں حصہ لینے والے ایک فدائی حملہ آور کی تصویر اور شناخت سمیت حملے کی وڈیو فوٹیج شائع کر دی ہے۔ فدائی حملہ آور کی تصویر سمیت بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ