
بلوچ نیشنل مومنٹ (بی این ایم) کے انسانی حقوق کے شعبے ’پانک‘ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس ماورائے عدالت قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پانک کی جانب سے 21 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، کیچ کے علاقے بلیدہ سے برآمد ہونے والی لاشوں کی شناخت یاسر بلوچ اور مہران بلوچ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
یاسر بلوچ ولد بلوچ خان(عمر 19 سال) سکونت میناز بلیدہ کے ایک طالب علم تھے، جنہیں 2 مارچ 2026 کو پاکستانی فرنٹیئر کور (ایف سی) نے ان کے گھر سے جبری لاپتہ کیا تھا۔
مہران بلوچ ولد حاجی اکبر، جنہیں 16 نومبر 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے میناز، بلیدہ میں گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لے کر ملٹری کیمپ منتقل کر دیا تھا۔ حراست کے بعد سے وہ مسلسل لاپتہ تھے۔
پانک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعات بلوچستان میں انسانی حقوق کے سنگین بحران، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی برسرِ عام پالیسی کا ثبوت ہیں جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے۔
پانک نے اقوامِ متحدہ (UN)، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ان سنگین پامالیوں پر فوری نوٹس لیں، غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور ذمہ داروں کا محاسبہ کریں۔
دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دونوں واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بی وائی سی نے اپنے جاری کردہ بیانات میں کہا ہے کہ ایسے واقعات شہریوں کے بنیادی حقوق، خصوصاً حقِ زندگی، آزادی اور قانونی تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔
کمیٹی کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کو گھر سے اٹھا کر طویل عرصے تک لاپتا رکھنا اور بعد ازاں اس کی لاش ملنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ بیان میں قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کا فوری نوٹس لیں۔
بی وائی سی نے مطالبہ کیا ہے کہ مہران بلوچ اور یاسر کی گمشدگیوں اور اموات کے حالات کی آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
