
کراچی میں بلوچستان کے معروف قبائلی و سماجی رہنما اور شہید نواب اکبر خان بگٹی کے فرزند نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی انتقال کر گئے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق ان کا انتقال حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث ہوا۔
ان کے انتقال کی خبر سے بلوچستان سمیت ملک بھر میں رنج و غم کی فضا قائم ہو گئی ہے، جبکہ مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی ایک سنجیدہ، باوقار اور صاف گو شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ بلوچ قوم کے مسائل پر معتدل اور حقیقت پسندانہ مؤقف رکھنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ہمیشہ شائستگی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔
2006 میں نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ عملی سیاست اور میڈیا میں فعال کردار ادا کیا، جہاں انہوں نے بلوچستان میں انسانی حقوق، وسائل کی تقسیم اور سیاسی محرومیوں جیسے اہم مسائل پر کھل کر گفتگو کی۔
بعد ازاں انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی، تاہم وہ وقتاً فوقتاً میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کرتے رہے۔
ان کی وفات کو بلوچستان کے لیے ایک معتدل اور سنجیدہ آواز کا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
