میرے دل میں محفوظ کچھ انمول چہرے: تابش بلوچ

میرے دل میں محفوظ کچھ انمول چہرے

تحریر: تابش بلوچ

13 نومبر کو شہیدوں کے نام ایک دن منانا یقیناً قابل احترام ہے۔ شہیدوں کی یاد ان کی قربانیوں اور ان کی زندگیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک دن مخصوص کرنا اپنی جگہ ایک اہم عمل ہے مجھے بھی اس دن کا احترام ہے مگر کچھ شہید ایسے ہیں جنہیں یاد کرنے کے لیے مجھے کسی مخصوص دن یا تاریخ کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ ان کے نام میری زندگی کے ہر دن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں, میرا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب میں ان کی یادوں میں کھو نہ جاتا ہوں، جب ان کے چہرے میری آنکھوں کے سامنے نہ آتے ہوں، جب ان کی گفتگو میرے کانوں میں نہ گونجتی ہو اور جب ان کی جدائی میرے دل کو اداس نہ کر دیتی ہو۔ بعض اوقات انسان بظاہر اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوتا ہے مگر اس کے اندر یادوں کا ایک ایسا جہاں آباد ہوتا ہے جہاں کچھ چہرے کبھی اوجھل نہیں ہوتے۔ ان میں کچھ ایسے خاص لوگ بھی ہیں جنہیں میں صرف شہیدوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنے جگری دوستوں کے طور پر یاد کرتا ہوں۔ ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت ان کی محبت ان کی سادگی ان کا ہنسنا اور ان کی باتیں آج بھی میری زندگی کی قیمتی یادوں میں شامل ہیں۔

2014 سے پہلے کی زندگی اور ایک نئی ملاقات:

2014 سے پہلے میں تحریک سے بالکل بے خبر اپنی روزمرہ زندگی کے کاموں میں مصروف تھا۔ نہ کسی کے نظریات سے کوئی واقفیت تھی اور نہ ہی اپنے اردگرد ہونے والے ظلم کو اس گہرائی سے محسوس کرتا تھا۔ زندگی اپنے معمول کے مطابق گزر رہی تھی اور مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ آنے والے وقت میں کچھ ایسی شخصیات سے ملاقات ہوگی جو میری سوچ میری زندگی اور میری یادوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیں گی۔ 2014 میں پہلی بار میری ملاقات شہید نثار احمد سیاپاد عرف میرل سے ہوئی۔ یہ محض ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ یہ میری زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا، میرل میرے لیے صرف ایک دوست نہیں بلکہ ایک اچھے رہنما بھی تھے ان کی شخصیت میں سنجیدگی خلوص شفقت اور دوسروں کو سمجھنے کا ایک خاص انداز موجود تھا۔ وہ اپنی گفتگو اور رویے سے انسان کو بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے کا موقع دیتے تھے ان کی صحبت میں گزارے ہوئے لمحات آج بھی میرے لیے ناقابل فراموش ہیں انسان کی زندگی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن سے ملاقات کے بعد ان کا اثر دیر تک باقی رہتا ہے۔ میرل بھی ان ہی شخصیات میں سے ایک تھے ان کی یاد آج بھی میرے دل میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

صدام عرف کے ڈی — ایک زندہ دل اور باصلاحیت دوست:

انہی کی بدولت میری ملاقات صدام عرف کے ڈی سے ہوئی۔ صدام اپنی شخصیت صلاحیت اور اپنے نظریات پر پختہ یقین رکھنے کے حوالے سے ایک منفرد انسان تھے۔ ان کے اندر ایک خاص اعتماد تھا اور ان کا انداز گفتگو دوسروں سے مختلف تھا۔ وہ اپنے مزاحیہ لہجے سے دوستوں کے درمیان خوشی کا ماحول پیدا کر دیتے تھے۔ انسان جب کسی دوست کو یاد کرتا ہے تو صرف اس کا چہرہ یاد نہیں آتا بلکہ اس کی آواز اس کی باتیں اس کا انداز اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے بھی ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ صدام بھی میرے لیے ایسی ہی ایک یاد ہیں ان کی گفتگو اور ان کے ساتھ وابستہ چھوٹے چھوٹے واقعات آج بھی میرے چہرے پر مسکراہٹ لے آتے ہیں اور اگلے ہی لمحے ان کی جدائی آنکھوں کو نم کر دیتی ہے۔

شہید نورالحق عرف بارگ — مزاح اور سادگی کا خوبصورت امتزاج:

شہید نورالحق عرف بارگ اپنی مزاحیہ گفتگو اور خوش مزاج طبیعت کی وجہ سے دوستوں میں خاص شہرت رکھتے تھے ان کے لہجے میں ایسی اپنائیت تھی کہ انسان ان کی باتیں سن کر اپنی پریشانیاں کچھ دیر کے لیے بھول جاتا تھا۔ ان کی شخصیت میں سادگی بھی تھی اور دوستوں کے ساتھ محبت کا ایک خوبصورت انداز بھی۔ جب بھی زندگی کے کسی لمحے میں اداسی محسوس کرتا ہوں تو بارگ کی وہ گفتگو ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے جو وہ صدام عرف کے ڈی کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ بعض یادیں انسان کو ہنساتی بھی ہیں اور رلاتی بھی ہیں۔ بارگ کی یاد بھی میرے لیے ایسی ہی ہے ان کی باتیں آج بھی ذہن میں محفوظ ہیں جیسے کل ہی ان کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو ہوئی ہو۔

آسا جان عرف ملا ابراہیم، ماں جیسی شفقت رکھنے والی شخصیت:

صدام عرف کے ڈی کی وجہ سے میری ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہوئی جنہیں آسا جان عرف ملا ابراہیم کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ نہایت سادہ مزاج انسان تھے اپنے اچھے اخلاق بہترین کردار اور محبت بھرے رویے کی وجہ سے دوستوں میں ایک خاص پہچان رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ان کی شفقت تھی، ان کے اندر ایسی محبت اور اپنائیت تھی جو انسان کو ماں کی محبت کا احساس دلاتی تھی۔ وہ اپنے خلوص اور نرم مزاجی سے ہر ملنے والے کے دل میں جگہ بنا لیتے تھے۔ بعض شخصیات کا تعارف ان کے نام سے نہیں بلکہ ان کے کردار اور دوسروں کے ساتھ ان کے برتاؤ سے ہوتا ہے۔ آسا جان بھی ایسی ہی شخصیت تھے، ان کی سادگی شفقت اور اچھے اخلاق کی یاد آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ ان سے وابستہ یادیں میرے لیے ہمیشہ قیمتی رہیں گی۔

مجاہد سیاپاد عرف وشین— بچھڑے ہوئے دوستوں کی جھلک:

وقت گزرتا گیا، ملاقاتیں ہوتی رہیں اور دوست بچھڑتے گئے۔ اس سفر میں ایک بات ہمیشہ محسوس کی کہ بعض نئے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے تو ان کے اندر اپنے بچھڑے ہوئے دوستوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ کسی کی آنکھوں میں، کسی کی شفقت، کسی کی گفتگو میں، کسی کا لہجہ اور کسی کے انداز میں کسی پرانے دوست کی عادت محسوس ہوتی ہے۔ پھر ایک دن مجاہد سیاپاد سے ملاقات ہوئی، ان کی شخصیت میں مجھے اپنے کئی بچھڑے ہوئے دوستوں کی خوبیاں ایک ساتھ محسوس ہوئیں، ان کی آنکھوں میں آسا جان عرف ملا ابراہیم کی شفقت نظر آتی تھی، ان کی گفتگو میں میرل نثار کی خوشبو محسوس ہوتی تھی اور ان کے انداز و رفتار میں صدام عرف کے ڈی کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ ان کی سادگی اور اپنائیت میں شہید نورالحق عرف بارگ کی شخصیت کا عکس محسوس ہوتا تھا۔ مجاہد سیاپاد کی شخصیت میرے لیے ایک ایسی یاد بن گئی جس میں کئی پرانے دوستوں کی محبت اور شفقت کی جھلک موجود تھی۔ وہ ایک مضبوط چٹان کی مانند تھے۔ ان کی زندگی اور شخصیت میں جو خوبیاں میں نے محسوس کیں وہ آج بھی میری یادوں کا حصہ ہیں۔ بالآخر وہ بھی ان شہیدوں میں شامل ہوگئے جنہوں نے اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں:

آج جب ان تمام دوستوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کے کچھ رشتے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔ فاصلے بڑھ جاتے ہیں، ملاقاتیں ختم ہو جاتی ہیں اور چہرے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں مگر ان کے ساتھ وابستہ یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ میرے لیے ان شہیدوں کی اہمیت صرف ان کے ناموں یا ان کی قربانیوں تک محدود نہیں، میں انہیں ان کی انسانی خوبیوں، ان کی دوستی، ان کی سادگی، ان کی خوش مزاجی، ان کی شفقت اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے قیمتی لمحات کی وجہ سے بھی یاد کرتا ہوں۔ ہر ایک کی اپنی الگ شخصیت تھی، اپنا الگ انداز تھا اور میرے دل میں ہر ایک کا اپنا ایک مقام ہے۔ کبھی میرل کی رہنمائی یاد آتی ہے، کبھی صدام کا مزاحیہ لہجہ ذہن میں گونجتا ہے، کبھی بارگ کی گفتگو یاد آتی ہے، کبھی آسا جان کی ماں جیسی شفقت دل کو چھو جاتی ہے اور کبھی مجاہد سیاپاد کی شخصیت میں محسوس ہونے والی اپنے بچھڑے ہوئے دوستوں کی جھلک آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بی این ایم کا دی ہیگ میں راشد احمد عرف فدا بلوچ کی ملک بدری کے خلاف احتجاجی ریلی

ہفتہ نومبر 7 , 2026
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں پارلیمنٹ کے سامنے راشد احمد عرف فدا بلوچ کی ملک بدری کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین نے ڈچ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے کیس کا فوری جائزہ لیں۔ اس مظاہرے کا مقصد ڈچ […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ