
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں پارلیمنٹ کے سامنے راشد احمد عرف فدا بلوچ کی ملک بدری کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔
مظاہرین نے ڈچ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے کیس کا فوری جائزہ لیں۔ اس مظاہرے کا مقصد ڈچ حکام، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کی توجہ راشد احمد کی ملک بدری کے حالات کی جانب مبذول کرانا تھا۔
ریلی سے جمال بلوچ، محمد مہیم، سنی بلوچ اور سیف عبید نے خطاب کیا۔ مقررین نے اس کیس کی سنگینی پر زور دیا اور کہا کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انھوں نے نیدرلینڈز سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک بدری کے معاملات میں انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے، اور کہا کہ ایسے فیصلوں میں متعلقہ افراد کی سلامتی اور تحفظ کو مدنظر رکھنا لازمی ہے۔
ریلی کے دوران بی این ایم نے نیدرلینڈز کے وزیر برائے پناہ و ہجرت، بارٹ فان ڈین برنک کو ایک باضابطہ عرضداشت بھی پیش کی۔
عرضداشت میں ڈچ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ راشد احمد عرف فدا بلوچ کے کیس کا فوری جائزہ لے اور یقینی بنائے کہ ان کی سلامتی، بنیادی حقوق اور تحفظ کو مناسب اہمیت دی جائے۔
