
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ (VMPS) یورپ چیپٹر کے کوآرڈینیٹر سارنگ حیدر (سارنگ سندھی) اور کمیٹی کے ارکان سعید سندھی اور شعیب سندھی نے سندھی قوم پرست کارکن راشد کھوسو کی مبینہ جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی یا ان کے موجودہ مقام کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے اہلِ خانہ اور ساتھی کارکنوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، راشد کھوسو کو 19 جولائی 2026ء کو دبئی، متحدہ عرب امارات سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ سے مبینہ طور پر آئی ایس آئی نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ اس کے بعد سے ان کے اہلِ خانہ کو ان کے مقام اور خیریت کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
ان کی والدہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اس صورتِ حال پر خاندان کی شدید پریشانی اور بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق، اس معاملے پر سندھ ہائی کورٹ، کراچی میں آئینی درخواست بھی دائر کی گئی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
راشد کھوسو کو جیئے سندھ کا کارکن بتایا جاتا ہے، جو جی۔ ایم۔ سید کے فلسفے سے متاثر ہو کر سندھ کے حقوق کے لیے پُرامن سیاسی جدوجہد کرتے ہیں۔ جی۔ ایم۔ سید کو ان کے پیروکار سندھی قوم کا بابا قرار دیتے ہیں۔
سارنگ حیدر اور کمیٹی کے دیگر ارکان نے جبری گمشدگیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر راشد کھوسو کسی ریاستی ادارے یا سیکیورٹی ایجنسی کی تحویل میں ہیں تو حکام فوری طور پر ان کے مقام کے بارے میں آگاہ کریں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں، انہیں اپنے اہلِ خانہ اور قانونی وکیل تک رسائی فراہم کریں اور مجاز عدالت کے سامنے پیش کریں۔ کسی بھی ادارے کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی شخص کو جواب دہی کے بغیر خفیہ حراست میں رکھا جانا چاہیے۔
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ (وی ایم پی ایس) یورپ چیپٹر نے پاکستان میں سندھی، بلوچ، پشتون اور دیگر سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں سے متعلق مسلسل سامنے آنے والے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات آزادیٔ اظہار، سیاسی اختلافِ رائے اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتے ہیں۔ پُرامن سیاسی سرگرمیوں کو جرم نہیں بنایا جانا چاہیے اور سیاسی اختلافات کو دھمکانے، غیرقانونی حراست یا بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان اور تمام متعلقہ ریاستی و سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ راشد کھوسو کے موجودہ مقام کے بارے میں فوری طور پر معلومات فراہم کی جائیں، انہیں بحفاظت رہا کیا جائے، بشرطیکہ ان پر کوئی قانونی الزام عائد کرکے انہیں عدالت میں پیش نہ کیا گیا ہو۔ ان کی مبینہ گمشدگی کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اقوامِ متحدہ کے جبری یا غیرارادی گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی فوری اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں، پاکستانی حکام سے جواب طلب کریں اور پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔