
انٹرنیٹ کے بڑے حصے کو چلانے والی پروگرامنگ زبان “پی ایچ پی” میں دو سنگین سکیورٹی خامیوں کا انکشاف ہوا ہے، مختلف ممالک کی حکومتوں اور سائبر سکیورٹی کے اداروں نے ویب سائٹس کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
متعدد سائبر سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جو تنظیمیں بروقت حفاظتی اپ ڈیٹ لاگو نہیں کر سکتیں، انھیں عارضی طور پر اپنی ویب سائٹس بند کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
یہ خامیاں پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں دریافت کی گئی ہیں، جبکہ ان کے لیے سکیورٹی اپ ڈیٹ بدھ کی سہ پہر جاری کی گئی۔
امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) نے مشورہ دیا ہے کہ جو ادارے فوری طور پر اپ ڈیٹ نہیں کر سکتے، وہ اپنے سسٹمز عارضی طور پر بند کر دیں۔
ادارے نے کہا: یہ خامیاں اکثر سرور کے فائل سسٹم یا ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی کا راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وفاقی ادارے معروف AI کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کو تیز کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
آن لائن انسائیکلوپیڈیا ویکیپیڈیا چلانے والی وکیمیڈیا فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ وہ ان سکیورٹی خامیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق: ’ہم نے احتیاطی تدبیر کے طور پر متعدد دیگر سسٹمز بھی عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جب تک انھیں محفوظ طریقے سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جا سکتا۔‘
اسی وجہ سے بدھ کے روز بعض صارفین کو ویکیپیڈیا کے کچھ حصوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایڈنبرا سٹی کونسل کی ویب سائٹ بھی متاثر ہوئی، جبکہ بی بی سی کے بعض پروگراموں کی ویب سائٹس بھی عارضی طور پر دستیاب نہیں رہیں۔
یہ خامیاں سائبر سکیورٹی کمپنیوں کالیف اور وِز کے ماہرین نے دریافت کیں۔ یہ تحقیق اوپن اے آئی کے ’پیچ دے پلینٹ‘ پروگرام کے تحت کی گئی، جس میں ماہرین کو جدید اے آئی ٹولز فراہم کیے گئے تاکہ ویب ڈویلپمنٹ کی زبانوں میں موجود خامیوں کو تلاش اور درست کیا جا سکے۔
اوپن اے آئی نے ایک بلاگ پوسٹ میں اس انکشاف کو ’حالیہ برسوں کے سب سے اہم سکیورٹی مسائل میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ خامیاں ایک دہائی سے زائد عرصے تک نظروں سے اوجھل رہیں، تاہم جدید آے آئی ٹولز استعمال کرنے کے چند ہفتوں کے اندر ماہرین انہیں دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
وِز کے مطابق پی ایچ پی استعمال کرنےوالی ویب سائٹس کی بڑی تعداد اس مسئلے سے متاثر ہو سکتی ہے، اور کمپنی کا اندازہ ہے کہ انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ کسی نہ کسی شکل میں اس کے دائرۂ اثر میں آتا ہے۔
پی ایچ پی فاؤنڈیشن اس مسئلے کی تفصیلات اور مکمل سکیورٹی پیچ رواں ماہ کے آخر میں جاری کرنا چاہتی تھی، تاہم خامیوں کی معلومات منگل کے روز سوشل میڈیا پر لیک ہو گئیں، جس کے بعد فوری حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہو گیا۔
